کینیڈا کا یورپ میں نیٹو فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ، امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون نئی شکل اختیار کرنے لگا

کینیڈا کا یورپ میں نیٹو فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ، امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون نئی شکل اختیار کرنے لگا

کینیڈا نے یورپ میں نیٹو کے تحت اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم امریکا کی جانب سے یورپ میں اپنی فوجی ذمہ داریوں کے مستقبل پر نظرثانی کے باعث نیٹو کے دفاعی انتظامات میں تبدیلی کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں
کینیڈین حکومت اور فوج کے لیے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر امریکا یورپ میں اپنی فوجی موجودگی یا ذمہ داریوں میں کمی کرتا ہے تو کینیڈا اور دیگر نیٹو اتحادی ممالک اس خلا کو کس حد تک پورا کریں گے کینیڈا پہلے ہی نیٹو کے مشرقی حصے میں اتحادی دفاعی سرگرمیوں میں فوجی کردار ادا کر رہا ہے
کینیڈین فوج کی یورپ میں موجودگی خاص طور پر مشرقی یورپ کے دفاع اور روس کے خلاف نیٹو کی دفاعی حکمت عملی سے جڑی ہوئی ہے کینیڈا لٹویا میں نیٹو کے کثیر ملکی بریگیڈ کی قیادت بھی کر رہا ہے، جہاں مختلف اتحادی ممالک کے فوجی کینیڈین قیادت میں کام کرتے ہیں
رپورٹ کے مطابق امریکا اور یورپی اتحادیوں کے درمیان دفاعی ذمہ داریوں کی تقسیم پر بات چیت جاری ہے امریکا طویل عرصے سے یورپی ممالک پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اپنے دفاع پر زیادہ اخراجات کریں اور یورپ کے دفاع کی ذمہ داری میں بڑا حصہ ادا کریں
کینیڈا کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ نیٹو کی اجتماعی دفاعی حکمت عملی میں شمالی امریکا اور یورپ کا فوجی تعاون بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یورپ میں امریکی فوجی کردار میں ممکنہ تبدیلی کی صورت میں کینیڈا سمیت دیگر اتحادیوں پر بھی اضافی ذمہ داریاں آسکتی ہیں
کینیڈا کی حکومت نے حالیہ عرصے میں یورپ کے ساتھ دفاعی اور سکیورٹی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا ہے اس تناظر میں نیٹو کے اندر کینیڈا کا کردار صرف فوجی تعیناتی تک محدود نہیں بلکہ یورپی اتحادیوں کے ساتھ طویل مدتی دفاعی تعاون سے بھی جڑا ہوا ہے
تاہم امریکا کی جانب سے یورپ میں اپنی فوجی موجودگی کے بارے میں حتمی پالیسی میں کیا تبدیلیاں کی جائیں گی، یہ ابھی واضح نہیں اس لیے کینیڈا اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے لیے آئندہ کے دفاعی انتظامات کا دائرہ بھی آنے والے فیصلوں سے وابستہ ہے

قومی خبریں سے مزید