جنوبی کوریا کا ایران جنگ میں فوج بھیجنے سے صاف انکار، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں اور تیل کی ترسیل کے تحفظ تک محدود رہنے کا فیصلہ
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جاری جنگ میں فوج یا فوجی سازوسامان اس انداز میں تعینات نہیں کرے گا جس سے جنوبی کوریا براہ راست جنگ کا حصہ بن جائے انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا جنگ میں شمولیت یا فوجی مداخلت کے اصول سے پیچھے نہیں ہٹے گا
صدر لی نے کہا کہ جنوبی کوریا اپنے شہریوں، تجارتی بحری جہازوں اور خام تیل کی ترسیل کے راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری محدود اقدامات ضرور کرے گا، تاہم ایسی کسی کارروائی میں شامل نہیں ہوگا جو اسے ایران جنگ میں فریق بنا دے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث جنوبی کوریا کے لیے اپنے تیل کی درآمد اور تجارتی بحری راستوں کا تحفظ اہم مسئلہ بن گیا ہے جنوبی کوریا کی حکومت خلیج عدن میں پہلے سے موجود اپنی بحری یونٹ چیونگ ہی کی سرگرمیوں کو محدود دائرے میں بڑھانے پر غور کر رہی ہے تاکہ اپنے بحری جہازوں اور تیل کی ترسیل کو تحفظ فراہم کیا جاسکے
امریکا کی جانب سے جنوبی کوریا پر ایران کے خلاف جنگ میں مزید تعاون کے لیے دباؤ بھی موجود ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل جنوبی کوریا سمیت بعض اتحادی ممالک کی جانب سے فوجی تعاون نہ کرنے پر ناراضی کا اظہار کیا تھا اس کے باوجود صدر لی نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا جنگ میں فوجی مداخلت نہیں کرے گا
جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان تقریباً 28,500 امریکی فوجی پہلے ہی جنوبی کوریا میں تعینات ہیں، جہاں ان کی موجودگی کا مقصد شمالی کوریا کے خلاف جنوبی کوریا کے دفاع میں مدد فراہم کرنا ہے






