سپریم کورٹ سے ضمانت کے چند گھنٹے بعد ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ دوبارہ گرفتار، صحافیوں اور وکلا کا شدید ردعمل
انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے سزا معطل کرکے ضمانت پر رہائی کا حکم ملنے کے چند گھنٹے بعد دوبارہ گرفتار کرلیا گیا دونوں کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس نے ایک دوسرے مقدمے میں حراست میں لیا اور انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا
سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی 17، 17 سال قید کی سزائیں معطل کرتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا یہ سزائیں سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں مختلف دفعات کے تحت سنائی گئی تھیں عدالت نے قرار دیا تھا کہ دونوں کی رہائی اسلام آباد ہائی کورٹ کے حتمی فیصلے تک ضمانت پر ہوگی
رہائی کے بعد اسلام آباد پولیس کی ایک ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی اور دونوں کو کوہسار تھانے میں درج ایک الگ مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا یہ مقدمہ 22 مارچ 2025 کو درج کیا گیا تھا، جس میں ان پر حکومت مخالف نعرے لگانے، سڑکیں روکنے اور سرکاری امور میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پولیس نے دونوں کا 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 14 روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا بعد ازاں دونوں کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا
دوبارہ گرفتاری پر متعدد صحافیوں، وکلا اور انسانی حقوق سے وابستہ شخصیات نے شدید تحفظات کا اظہار کیا وکیل ردا حسین نے کہا کہ دونوں کی مسلسل حراست سے یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر ریاست کسی شخص کو جیل میں رکھنا چاہے تو عدالت کا حکم بھی مؤثر نہیں رہتا ڈیجیٹل حقوق کے کارکن اسامہ خلجی نے بھی اس پیش رفت پر سخت ردعمل دیا
صحافی باقر سجاد سید نے سوال اٹھایا کہ عدالتی ریلیف کو مؤثر ہونے سے کیوں روکا جا رہا ہے اور کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم جیل کے دروازے پر بے معنی نہیں ہونا چاہیے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان نے بھی گرفتاری کو سپریم کورٹ کے حکم، قانون اور انسانی حقوق کا مذاق قرار دیا
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جنوری سے ایک مقدمے میں قید تھے، جبکہ سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں انہیں جنوری میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی سپریم کورٹ کی جانب سے سزا معطل ہونے کے بعد ان کی رہائی متوقع تھی، تاہم الگ مقدمے میں دوبارہ گرفتاری کے باعث وہ بدستور جیل میں ہیں






