پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب کو سنگین خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدے کے تحت ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور حالیہ دفاعی معاہدہ اجتماعی دفاع اور روک تھام کے اصول پر مبنی ہے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کا اعلان کر چکا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور روک تھام کے لیے ہے ان کے مطابق اس معاہدے کے کوئی علاقائی عزائم نہیں اور یہ کسی دوسرے ملک کے خلاف اتحاد بنانے کے لیے نہیں کیا گیا
دفاعی وزیر خواجہ آصف بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو پاکستان سعودی عرب کا عملی اور سفارتی طور پر ساتھ دے گا ان کے مطابق اگر سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو تین ملکی دفاعی معاہدے کے تحت دوسرے فریقوں پر بھی ذمہ داریاں عائد ہوں گی
پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی واضح کیا ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے، تاہم فوجی کارروائی کب، کہاں اور کس انداز میں کی جائے گی، اس بارے میں تفصیلات کو عملی اور دفاعی رازداری کے باعث ظاہر نہیں کیا جا رہا
مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست 2026 کو طے پایا تھا معاہدے کے تحت ایک رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، تاہم اس معاہدے کے عملی طریقہ کار اور ادارہ جاتی نظام کو ابھی مکمل کیا جا رہا ہے





