اسٹاربکس کا فلوریڈا کے مقدمے میں تصفیہ، نسل یا جنس کی بنیاد پر ملازمت اور ترقی میں کوٹے پر پابندی
امریکی کافی کمپنی اسٹاربکس نے فلوریڈا کی جانب سے دائر کیے گئے امتیازی سلوک کے مقدمے میں تصفیہ کرلیا ہے، جس کے تحت کمپنی ملازمت، ترقی اور تنخواہوں سے متعلق فیصلوں میں نسل یا جنس کی بنیاد پر کوٹے یا ترجیحات اختیار نہیں کرے گی
رائٹرز کے مطابق فلوریڈا کے ریپبلکن اٹارنی جنرل جیمز یوتھ میئر اور اسٹاربکس نے جمعرات کو تصفیے کا مشترکہ اعلان کیا،ریاست نے گزشتہ دسمبر میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اسٹاربکس نے ریاستی انسدادِ امتیاز قوانین کی خلاف ورزی کی، جس میں مبینہ نسلی کوٹے مقرر کرنا اور کمپنی کے اعلیٰ عہدیداروں کے معاوضے کو تنوع سے متعلق اہداف کے حصول سے جوڑنا بھی شامل تھا
اسٹاربکس نے کسی غلطی یا قانون کی خلاف ورزی کا اعتراف نہیں کیا،کمپنی نے کہا کہ وہ ملازمین، جنہیں وہ ’’گرین ایپرن پہننے والے پارٹنرز‘‘ کہتی ہے، کے لیے بہتر ملازمتوں اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھے گی
تصفیے کے تحت اسٹاربکس فلوریڈا کے قانون کی پابندی کرے گی اور فلوریڈا کے محکمہ قانونی امور کو مقدمے کے اخراجات کی مد میں 10 لاکھ ڈالر ادا کرے گی،کمپنی کو آئندہ 4 سال تک سالانہ بنیاد پر اپنی قانونی تعمیل کی تصدیق بھی جمع کرانا ہوگی
معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ اسٹاربکس ایسے اداروں میں شرکت نہیں کرے گی جو اپنے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نسلی تنوع بڑھانے کو لازمی قرار دیتے ہوں،فلوریڈا کے اٹارنی جنرل کے دفتر کے ترجمان کے مطابق یہ تصفیہ پورے امریکا میں اسٹاربکس پر لاگو ہوگا
فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز یوتھ میئر نے کہا کہ تنوع، مساوات اور شمولیت پر مبنی پروگرام شہری حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کا جواز نہیں بن سکتے
یہ مقدمہ امریکا میں کمپنیوں اور اداروں کے تنوع، مساوات اور شمولیت یعنی DEI پروگراموں کے حوالے سے جاری وسیع تر قانونی تنازعات کا حصہ ہے،اسی نوعیت کا اسٹاربکس کے خلاف مسوری کے اٹارنی جنرل کا مقدمہ رواں سال فروری میں ایک وفاقی جج نے خارج کردیا تھا، تاہم ریاست نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کر رکھی ہے






