ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے مصنوعی ذہانت بڑا معاملہ بن گئی

ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات سے پہلے مصنوعی ذہانت بڑا معاملہ بن گئی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی 24 ستمبر کو واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات سے پہلے مصنوعی ذہانت دونوں ممالک کے درمیان اہم ترین معاملات میں شامل ہوگئی ہے امریکا اور چین مصنوعی ذہانت کو نہ صرف معاشی بلکہ فوجی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھتے ہیں، تاہم جدید چپس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کے ضابطوں اور ایک دوسرے پر ٹیکنالوجی کی نقل کے الزامات کے معاملے پر دونوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں
امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے امریکی کمپنیاں جدید ترین چپس اور بڑے ڈیٹا مراکز کی مدد سے طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کر رہی ہیں، جبکہ چینی کمپنیاں کم لاگت اور کھلے ماڈلز کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی ٹیکنالوجی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں چینی کمپنیوں کے بعض جدید ماڈلز نے امریکی مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے ساتھ فرق بھی کم کیا ہے
امریکا نے 2022 سے چین کو جدید ترین مصنوعی ذہانت کی چپس اور چپ بنانے والے آلات تک رسائی محدود کر رکھی ہے واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ جدید امریکی ٹیکنالوجی چین کی مصنوعی ذہانت اور فوجی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرسکتی ہے دوسری جانب چین امریکی پابندیوں کے باوجود اپنی مقامی چپ اور مصنوعی ذہانت کی صنعت کو تیزی سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے
مصنوعی ذہانت کے فوجی استعمال نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے امریکی اور چینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کسی جوہری کمان کے نظام میں مداخلت کرے یا کسی فوجی سائبر کارروائی کو خودکار طور پر شروع کردے تو چند منٹوں میں دونوں ملک ایک دوسرے کی کارروائی کو حملہ سمجھ سکتے ہیں ماہرین نے جوہری نظاموں کے حوالے سے واضح حدود، اہم فوجی سائبر کارروائیوں میں انسانی نگرانی اور ہنگامی رابطے کے لیے براہ راست رابطہ نظام قائم کرنے کی تجاویز دی ہیں
مصنوعی ذہانت کے ضابطے بھی دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف کا اہم سبب ہیں صدر ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت پر سخت نئے ضابطوں کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ زیادہ پابندیاں امریکی ٹیکنالوجی کی مسابقتی برتری کو نقصان پہنچا سکتی ہیں چین نے دوسری جانب مصنوعی ذہانت کے الگورتھم، تربیتی اعداد و شمار اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے حوالے سے مختلف قواعد نافذ کیے ہیں
چین مصنوعی ذہانت کے کھلے ماڈلز کے فروغ پر بھی زور دے رہا ہے شی جن پنگ نے حال ہی میں برکس ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایک کھلا ماڈل زون بنانے کی تجویز دی اور مصنوعی ذہانت کے عالمی انتظام کے لیے وسیع اتفاق رائے پر مبنی نظام قائم کرنے پر زور دیا
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات میں مصنوعی ذہانت کے علاوہ تجارت، جدید ٹیکنالوجی، تائیوان، اہم معدنیات اور دیگر عالمی معاملات بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے دونوں ممالک کے درمیان مصنوعی ذہانت پر کسی بڑے معاہدے کے امکانات کے بارے میں ماہرین محتاط ہیں، تاہم مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات پر بات چیت شروع کرنا مستقبل میں وسیع تر تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید