سن بیلٹ کا سورج غروب ہونے لگا، ہیوسٹن سمیت امریکی جنوب میں آبادی اور معاشی رفتار متاثر
امریکا کے تیزی سے ترقی کرنے والے ’’سن بیلٹ‘‘ خطے میں کئی دہائیوں سے جاری آبادی اور معاشی توسیع کی رفتار نمایاں طور پر کم ہونے لگی ہے، جبکہ ہیوسٹن میں آبادی کے پہلی مرتبہ سکڑنے کا خدشہ سامنے آیا ہے،بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خطے کی معیشت، روزگار، ہاؤسنگ اور سرکاری آمدنی پر دور رس اثرات ڈال سکتی ہے
رپورٹ کے مطابق ہیوسٹن میٹروپولیٹن علاقے کو 1980 کی دہائی کے تیل کے بحران کے بعد پہلی مرتبہ آبادی میں کمی کا سامنا ہوسکتا ہے،گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہیوسٹن سمیت ٹیکساس، فلوریڈا، ایریزونا اور دیگر سن بیلٹ ریاستیں کم ٹیکس، نسبتاً کم رہائشی اخراجات، روزگار کے مواقع اور تیز رفتار تعمیرات کے باعث ملک کے دوسرے حصوں سے لاکھوں افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہیں
تاہم 2025 میں سن بیلٹ کی 14 ریاستوں میں سے 12 کی آبادی میں اضافہ ایک فیصد سے بھی کم رہا، جبکہ 13 ریاستوں میں آبادی کی شرحِ نمو تاریخی رجحان سے کم رہی،رواں سال کے پہلے نصف کے لیبر فورس کے اعداد و شمار بھی فینکس اور نیش وِل سمیت دیگر بڑے سن بیلٹ شہروں میں آبادی اور افرادی قوت کی سست رفتار نمو کی جانب اشارہ کرتے ہیں
بلومبرگ کے مطابق اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو امیگریشن میں کمی ہے،رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ برسوں میں سن بیلٹ کی تیز رفتار آبادی اور افرادی قوت میں اضافے کو ملک کے اندرونی نقل مکانی کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے آنے والے تارکین وطن نے بھی تقویت دی،اب امیگریشن کی رفتار کم ہونے سے کاروباروں کو مستقبل میں کارکنوں کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے
آبادی کی سست یا منفی نمو کے اثرات صرف روزگار تک محدود نہیں رہیں گے،کم نئے رہائشیوں کا مطلب ہاؤسنگ، ریٹیل، ریسٹورنٹس، اسکولوں اور دیگر مقامی خدمات کی طلب میں کمی ہوسکتا ہے، جبکہ ریاستی اور مقامی حکومتوں کو ٹیکس آمدنی میں کم اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،بلومبرگ نے اس صورتحال کو بالآخر خطے کی معاشی ترقی کی رفتار میں کمی سے جوڑا ہے
ہیوسٹن اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آیا ہے،طویل عرصے تک سستی رہائش، توانائی کے شعبے، روزگار اور نسبتاً کم لاگت کے باعث تیزی سے بڑھنے والا یہ شہر اب ایسی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے جس میں آبادی میں مسلسل اضافہ یقینی نہیں رہا
سن بیلٹ میں آنے والی یہ تبدیلی امریکی آبادی کے جغرافیے میں بھی اہم موڑ کی علامت ہوسکتی ہے،کئی دہائیوں تک شمالی اور مشرقی ریاستوں سے جنوبی اور مغربی ریاستوں کی جانب ہونے والی نقل مکانی نے امریکی شہروں، کاروباری مراکز اور سیاسی نقشے کو تبدیل کیا، تاہم حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس طویل عرصے سے جاری رجحان کی رفتار اب پہلے جیسی نہیں رہی






