ٹرمپ کے میل ووٹنگ منصوبے کو دھچکا، امریکی پوسٹل سروس نے متنازع کمپیوٹر نظام پر کام روک دیا
واشنگٹن: امریکی پوسٹل سروس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی میل کے ذریعے ووٹنگ محدود کرنے سے متعلق انتظامی حکم سے منسلک ایک متنازع کمپیوٹر نظام کی تیاری پر کام روک دیا ہے،پوسٹ ماسٹر جنرل ڈیوڈ اسٹائنر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس حکم کے نفاذ کو روکنے کے بعد ادارہ فی الحال اس نظام پر مزید کام نہیں کر رہا
ڈیوڈ اسٹائنر نے کہا کہ عدالت کی جانب سے حکم امتناعی موجود ہے، اس لیے پوسٹل سروس نے کام روک دیا ہے،یہ نظام ریاستوں سے میل کے ذریعے ووٹ ڈالنے والے افراد کی فہرستیں حاصل کرکے انہیں پوسٹل سروس کے ذریعے بھیجے جانے والے بیلٹس سے ملانے کے لیے تیار کیا جا رہا تھا
پوسٹل سروس نے رواں ماہ بتایا تھا کہ اس نے ’’یو ایس فیڈرل بیلٹ میل پورٹل‘‘ کی تیاری کئی ماہ سے جاری رکھی ہوئی تھی اور اس کا مقصد ریاستی انتخابی حکام کو میل کے ذریعے بیلٹ حاصل کرنے والے افراد کی فہرستیں محفوظ طریقے سے فراہم کرنے کا نظام دینا تھا
سپریم کورٹ نے رواں ہفتے ٹرمپ انتظامیہ کی میل ووٹنگ کے طریقہ کار میں تبدیلی کی کوشش کو آگے بڑھنے سے روک دیا،انتظامیہ کے منصوبے میں بیلٹ کے لفافوں کے لیے یکساں ڈیزائن اور ریاستوں کی جانب سے ووٹرز کا ڈیٹا ایک مرکزی وفاقی پورٹل پر فراہم کرنے سمیت دیگر تقاضے شامل تھے
اس منصوبے پر اس وقت بھی سوالات اٹھائے گئے تھے جب ایک وسل بلوئر نے کانگریس کو بتایا کہ نظام کی تیاری کے لیے مقررہ مدت مختصر ہونے کے باعث اس کی کارکردگی، سکیورٹی اور استحکام کی مکمل جانچ کے لیے وقت محدود تھا،پوسٹل سروس نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نظام کی تیاری کے دوران مسلسل ٹیسٹنگ اور سکیورٹی کی جانچ کی گئی
پوسٹل سروس کے مطابق عدالت کے فیصلے کے بعد وہ معمول کے مطابق 2026 کے انتخابات کے انتخابی ڈاک اور بیلٹس کی ترسیل جاری رکھے گی،ادارے نے پہلے ہی 2026-27 کے لیے انتخابی ڈاک سے متعلق رہنما اصول جاری کر رکھے ہیں
ڈیوڈ اسٹائنر، جو جولائی 2025 سے امریکی پوسٹل سروس کے پوسٹ ماسٹر جنرل ہیں، اس دوران ادارے کو مالی اور انتظامی مشکلات کے ساتھ ساتھ انتخابی ڈاک سے متعلق بڑھتی ہوئی قانونی اور سیاسی کشمکش کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سینٹ میں پوسٹ ماسٹر جنرل کی اپروول میں مشکلات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ روز انکا نام بالکل اچانک واپس لے لیا ہے اور نام واپس لینے کی کوئ وجہ بھی نہیں بتائ






