’واٹرگیٹ سے بھی بدتر‘، ایف بی آئی کی نئی فائلوں میں ٹرمپ تحقیقات میں شامل ہونے اور ایلون مسک کے خلاف تحقیقات کی کوشش کا انکشاف
امریکی سینیٹ کی جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر چک گراسلی کی جانب سے جاری کی گئی نئی ایف بی آئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ بیورو کے ایک ایجنٹ نے اس وقت کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق روس تحقیقات میں شامل ہونے کی بار بار کوشش کی، جبکہ ایک دوسرے ایجنٹ نے ایلون مسک کے خلاف فوجداری تحقیقات شروع کرنے پر زور دیا تھا
دستاویزات کے مطابق مسک کے خلاف تحقیقات کی تجویز اس وقت سامنے آئی جب محکمہ حکومتی کارکردگی، جسے ڈی او جی ای کہا جاتا تھا، نے وفاقی ملازمین سے ای میل کے ذریعے ان کے ہفتہ وار کام کی تفصیلات طلب کی تھیں،ایک سابق ایف بی آئی ایجنٹ نے اس اقدام کو بنیاد بناتے ہوئے مسک کے خلاف ممکنہ فوجداری معاملہ شروع کرنے کی تجویز دی
جاری کی گئی ایک داخلی ای میل میں ایجنٹ کی جانب سے مسک کے خلاف تحقیقات کی تجویز کے ساتھ اس اقدام کا موازنہ سابق صدر بل کلنٹن سے متعلق ایک پرانے ای میل تنازعہ سے بھی کیا گیا تھا،دستاویزات کے مطابق ایجنٹ نے ساتھی اہلکاروں سے تحقیقات شروع کرنے کے امکانات پر بات کی اور اسے محض ابتدائی تجویز کے طور پر پیش کیا
دوسری دستاویزات میں سابق ایف بی آئی ایجنٹ کی جانب سے ٹرمپ سے متعلق روس تحقیقات، جسے کراس فائر ہریکین کے نام سے جانا جاتا ہے، میں شامل ہونے کی کوششوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں،گراسلی نے ان فائلوں کو ایف بی آئی کے اندر سابقہ تحقیقات کے طریقہ کار اور سیاسی غیرجانبداری سے متعلق سوالات اٹھانے والی دستاویزات کے طور پر پیش کیا ہے،تاہم دستاویزات میں موجود الزامات اور گراسلی کی تشریحات کو حتمی عدالتی نتائج نہیں سمجھا جا سکتا
مسک کے معاملے میں بھی جاری شدہ ریکارڈ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایف بی آئی ایجنٹ نے تحقیقات شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، لیکن ان دستاویزات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسک کے خلاف ایسی فوجداری تحقیقات باضابطہ طور پر شروع ہوئی تھیں یا ان کے نتیجے میں کوئی الزام عائد کیا گیا تھا
یہ دستاویزات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایف بی آئی کے سابقہ ٹرمپ سے متعلق تحقیقات اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سیاسی غیرجانبداری پر کانگریس میں دوبارہ بحث جاری ہے،ایف بی آئی ڈائریکٹر کش پٹیل نے بھی حالیہ سینیٹ جوڈیشری کمیٹی سماعت میں ٹرمپ سے متعلق سابق تحقیقات، ایجنٹوں کی برطرفیوں اور بیورو کی پالیسیوں پر قانون سازوں کے سوالات کا سامنا کیا





