لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے خاتمے کے بعد نئی فورس کی تیاری، میکرون کی لبنانی فوج کی حمایت پر زور
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، لبنان کے صدر جوزف عون اور اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم نے پیرس میں اہم سکیورٹی مذاکرات کیے، جن کا مقصد مالی مشکلات سے دوچار لبنانی فوج کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنا اور جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے خاتمے کے بعد نئی بین الاقوامی فورس کے قیام پر غور کرنا تھا
مذاکرات میں لبنان، اردن، فرانس، برطانیہ اور اٹلی کے دفاعی حکام کے علاوہ امریکا اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی میکرون نے کہا کہ لبنان کی خودمختاری مضبوط کرنے اور پورے ملک میں ریاستی اختیار قائم کرنے کے لیے لبنانی مسلح افواج کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے
فرانس کا کہنا ہے کہ پیرس مذاکرات میں لبنانی فوج کی تعیناتی کے ایک واضح، قابلِ اعتماد اور قابلِ عمل منصوبے کا جائزہ لیا گیا اس منصوبے کو مستقبل میں مالی امداد، فوجی سامان اور تربیت سمیت عالمی تعاون حاصل کرنے کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے
جنوبی لبنان میں صورتحال کا ایک اہم پہلو حزب اللہ کا معاملہ بھی ہے لبنانی فوج کو جنوبی علاقوں میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان سے فوجی انخلا کے لیے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اہم شرط قرار دیا گیا ہے صدر جوزف عون نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاہم وہ اس عمل کو مسلح تصادم کے بغیر مکمل کرنے کی بات کرتے رہے ہیں
یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس، جسے یونیفل کہا جاتا ہے، کا مینڈیٹ 31 دسمبر 2026 کو ختم ہونے والا ہے یونیفل تقریباً 5 دہائیوں سے جنوبی لبنان میں موجود ہے اور اس وقت 46 ممالک کے تقریباً 7,500 امن اہلکار اس مشن کا حصہ ہیں
فرانس اور اٹلی یونیفل کے بعد جنوبی لبنان میں ایک نئی کثیر ملکی فورس قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لبنان کے صدر جوزف عون نے بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے انخلا کے بعد کسی بھی قسم کا سکیورٹی خلا پیدا نہیں ہونا چاہیے اور لبنان نئی فورس کے لیے یورپی یا کسی دوسرے بین الاقوامی انتظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے
فرانس کی جانب سے تجویز کردہ نئے انتظام میں لبنانی فوج کو مشاورت، تربیت، سامان اور دیگر سکیورٹی معاونت فراہم کرنے کے امکانات زیر غور ہیں اس کا مقصد جنوبی لبنان میں ریاستی اداروں کی موجودگی بڑھانا اور یونیفل کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے ممکنہ خلا کو روکنا ہے
پیرس مذاکرات میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جون میں طے پانے والے امریکی حمایت یافتہ فریم ورک کا معاملہ بھی اہم رہا، جس میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنانی فوج کی جنوبی علاقوں میں تعیناتی کا تصور شامل ہے تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس عمل کو مشکلات کا سامنا ہے





