چین کا ایران کے حقوق کے تحفظ کا اعلان، ہرمز آبنائے کھولنے اور جنگی کشیدگی کم کرنے پر زور
چین نے ایران کے حقوق اور مفادات کے تحفظ میں تعاون جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی مذاکرات کی طرف واپس آئیں بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی جنگ، آبنائے ہرمز، ایران امریکا مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تفصیلی بات چیت ہوئی
وانگ ای نے کہا کہ چین ایران کے حقوق اور مفادات کے تحفظ اور دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت و تعاون مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے انہوں نے امریکا اور ایران پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال میں عقل و تحمل سے کام لیں، جون میں طے پانے والے عبوری امن معاہدے کی طرف واپس جائیں اور سنجیدہ مذاکرات شروع کریں
چین نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کو جلد دوبارہ کھولنے پر زور دیا ہے وانگ ای کے مطابق آبنائے ہرمز سے عالمی توانائی کی ترسیل اور سپلائی چین کا استحکام وابستہ ہے انہوں نے کہا کہ چین نہیں چاہتا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی مزید پھیل کر یمن اور بحیرہ احمر تک پہنچ جائے
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے، تاہم تہران ایسے سفارتی حل کا خیرمقدم کرتا ہے جو ایرانی عوام کے حقوق کو یقینی بنائے ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کے راستے کو بھی اہمیت دیتا ہے
چین کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ساتھ خطے میں توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں چین ایران کا تیل خریدنے والا اہم ملک ہے اور بیجنگ پہلے بھی آبنائے ہرمز میں معمول کی اور محفوظ آمدورفت بحال کرنے پر زور دیتا رہا ہے
چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا موجودہ سکیورٹی نظام ناکافی ہے اور اسے بہتر اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے چین نے خطے میں امن، انصاف اور منصفانہ سیاسی حل کے فروغ میں کردار ادا کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے
اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان متوقع ملاقات سے قبل ایران کا معاملہ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی شامل ہے امریکا ایران اور چین کے درمیان مالی و تجارتی روابط محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے، جبکہ چین تہران کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے
خطے میں جاری جنگ کے نقصانات بھی سامنے آ رہے ہیں امریکی حکام کے مطابق ایران کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں متعدد امریکی اڈوں کی عمارتوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ امریکی محکمہ دفاع نے 29 جون تک جنگ کی لاگت کا تخمینہ 33.4 ارب ڈالر لگایا تھا، جس میں بنیادی ڈھانچے کی مرمت کے اخراجات شامل نہیں تھے
چین کے تازہ بیان سے واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایک طرف تہران کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی بات کر رہا ہے اور دوسری طرف امریکا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر آنے کی ترغیب دے رہا ہے آبنائے ہرمز کی بحالی اور جنگ کو یمن و بحیرہ احمر تک پھیلنے سے روکنا چین کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق عالمی توانائی کی ترسیل اور تجارت سے ہے





