ٹرمپ نے ڈی ای آئی کو محدود کیا، اب امریکی کمپنیوں میں اس کی حیران کن دو طرفہ واپسی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں کارپوریٹ امریکا پر سیاسی دباؤ کے باعث تنوع، مساوات اور شمولیت یعنی ڈی ای آئی کے متعدد پروگرام محدود یا معطل کیے گئے، لیکن ایک نئے سروے کے مطابق اب ملازمین کی بڑھتی حمایت کے باعث یہ پروگرام خاموشی سے دوبارہ جگہ بنا رہے ہیں اور اس رجحان میں ڈیموکریٹس کے ساتھ ریپبلکن ملازمین کی حمایت بھی شامل ہے
یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق بینٹلی یونیورسٹی اور گیلپ کے تازہ بزنس اِن سوسائٹی سروے میں ملازمین سے ڈی ای آئی پروگراموں اور کام کی جگہ پر تنوع کے فوائد کے بارے میں سوال کیا گیا، یہاں DEI سے مراد Diversity, Equity and Inclusion ہے، یعنی تنوع، مساوات اور شمولیت ، سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی نظریات کے مختلف حلقوں میں ملازمین کا ایک بڑا حصہ تنوع سے متعلق پروگراموں کو کام کی جگہ کے لیے مفید سمجھتا ہے
یہ رجحان اس لیے نمایاں ہے کہ ڈی ای آئی گزشتہ چند برسوں میں امریکی سیاست اور کاروباری اداروں کے درمیان ایک متنازعہ موضوع بن چکا ہے،گیلپ کے 2025 کے سروے میں 69 فیصد امریکی بالغوں نے کہا تھا کہ کمپنیوں کے لیے ڈی ای آئی کو فروغ دینا انتہائی یا کسی حد تک اہم ہے، اگرچہ اسے اعلیٰ کاروباری ترجیح سمجھنے والوں کی شرح پہلے کے مقابلے میں کم ہوئی تھی
تازہ سروے میں تقریباً تین چوتھائی، یعنی 72 فیصد جواب دہندگان نے کمپنیوں میں تنوع سے متعلق بعض فوائد کی حمایت کی،رپورٹ کے مطابق سیاسی وابستگی کے باوجود ملازمین میں ڈی ای آئی کے بعض عملی فوائد کے بارے میں مثبت رائے میں اضافہ دیکھا گیا ہے
بینٹلی یونیورسٹی اور گیلپ کئی برس سے امریکیوں کے کاروبار اور سماجی معاملات سے متعلق رویوں کا جائزہ لے رہے ہیں،2025 کے سروے میں 3,007 امریکی بالغ افراد شامل تھے، جبکہ 2026 کی تحقیق بھی قومی سطح پر نمائندہ سروے کے طور پر پیش کی جا رہی ہے
تاہم سروے کے نتائج یہ ظاہر نہیں کرتے کہ ڈی ای آئی پر سیاسی اختلاف ختم ہوگیا ہے،مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان اب بھی واضح اختلافات موجود ہیں، جبکہ مجموعی طور پر امریکی رائے میں ڈی ای آئی کو کاروباری ذمہ داری سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کے ممکنہ نقصانات اور اثرات پر بھی بحث جاری ہے





