چین پاکستان میں جدید قانون نافذ کرنے کا مرکز بنائے گا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ قانون طاقتور کے سامنے بھی نافذ ہوگا؟

چین پاکستان میں جدید قانون نافذ کرنے کا مرکز بنائے گا، مگر اصل سوال یہ ہے کہ قانون طاقتور کے سامنے بھی نافذ ہوگا؟

پاکستان اور چین نے ملک میں ایک جدید قانون نافذ کرنے کا مرکز قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے اس مرکز کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، بہتر بنیادی ڈھانچے اور خصوصی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور چین کے نائب وزیر برائے عوامی سلامتی گاؤ چی کے درمیان ملاقات میں پولیس کی تربیت، جدید ٹیکنالوجی، آلات کے استعمال اور دہشت گردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا
یہ منصوبہ بظاہر پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے نظام کو جدید بنانے کی کوشش ہے، لیکن پاکستان میں اصل مسئلہ صرف جدید ٹیکنالوجی یا پولیس کی تربیت کا نہیں بلکہ قانون کے یکساں نفاذ کا بھی ہے سوال یہ ہے کہ اگر پولیس کے پاس جدید ٹیکنالوجی، جدید تربیت اور جدید تفتیشی نظام آجائے تو کیا یہی قانون طاقتور سیاسی شخصیات، بااثر کاروباری افراد، بڑے سرکاری افسران اور دوسرے بااثر طبقات کے خلاف بھی اسی قوت سے استعمال ہوگا جس طرح عام شہری کے خلاف کیا جاتا ہے؟
پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے طویل عرصے سے ایسے معاملات کی نشاندہی کی ہے جن میں من مانی گرفتاری، حراست، ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں ہیومن رائٹس واچ نے بھی پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کا حوالہ دیا ہے
یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے کے کسی بھی نئے نظام کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ کتنے کیمرے لگائے گئے، کتنے افسران کو تربیت دی گئی یا مصنوعی ذہانت کتنی استعمال کی گئی، بلکہ یہ ہوگا کہ قانون کی گرفت معاشرے کے تمام طبقات تک یکساں پہنچتی ہے یا نہیں
حال ہی میں یلو لائن منصوبے کے 8.5 ارب روپے کے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں مرکزی ملزم کو ضمانت ملنے کا معاملہ بھی اسی وسیع سوال کو سامنے لاتا ہے عدالت نے ضمانت دیتے ہوئے تفتیش کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کی۔ ایسے مقدمات میں عوام کے لیے بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر سرکاری منصوبوں میں اربوں روپے کے معاملات سامنے آئیں تو تحقیقات اتنی مضبوط اور شفاف کیوں نہیں ہوتیں کہ مقدمہ منطقی انجام تک پہنچ سکے
پاکستان میں احتساب کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے نظام پر سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات بھی کوئی نئی بات نہیں انسانی حقوق اور حکمرانی سے متعلق مختلف جائزوں میں پولیس، عدالتی نظام اور احتساب کے طریقہ کار میں ادارہ جاتی کمزوریوں اور جواب دہی کے مسائل کی نشاندہی ہوتی رہی ہے
قانون کی طاقت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب سامنے ایک غریب یا کمزور شہری نہیں بلکہ ایسا شخص ہو جس کے پاس سیاسی اثر و رسوخ، دولت، سرکاری طاقت یا طاقتور لوگوں تک رسائی ہو اگر قانون صرف عام شہری کے لیے سخت اور بااثر شخص کے لیے نرم دکھائی دے تو جدید عمارتیں، جدید گاڑیاں، کیمرے اور مصنوعی ذہانت بھی قانون کی بالادستی قائم نہیں کرسکتے
چین کے ساتھ ہونے والا تعاون پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور قانون نافذ کرنے کے نئے طریقے ضرور دے سکتا ہے دونوں ممالک پولیس کی تربیت کے تبادلے اور جدید ٹیکنالوجی و آلات میں تعاون بڑھانے پر بھی متفق ہوئے ہیں لیکن پاکستان کے لیے اس منصوبے کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ جدید نظام کو صرف عام شہریوں کی نگرانی یا گرفتاری تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے سرکاری اداروں کے اندر بدعنوانی، اختیارات کے غلط استعمال اور قانون شکنی کی تحقیقات کے لیے بھی مؤثر بنایا جائے
اگر ایک عام شہری قانون توڑتا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہوتی ہے، لیکن اگر کسی بااثر شخص پر بڑے مالی اسکینڈل، اختیارات کے غلط استعمال یا قانون کی خلاف ورزی کے الزامات ہوں تو معاملہ برسوں عدالتوں اور تفتیشی اداروں میں چلتا رہے، تو عوام کا قانون پر اعتماد کمزور ہوتا ہے اسی لیے جدید قانون نافذ کرنے کا مرکز تب ہی حقیقی تبدیلی لاسکے گا جب اس کے ساتھ آزاد تحقیقات، شفاف احتساب، عدالتی نگرانی اور طاقتور افراد کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ بنانے کا مؤثر نظام موجود ہو
پاکستان کو صرف ایسا قانون نافذ کرنے والا نظام نہیں چاہیے جو زیادہ طاقتور ہو، بلکہ ایسا نظام چاہیے جو طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے ایک ہی قانون نافذ کرے اگر جدید ٹیکنالوجی صرف قانون کی طاقت بڑھائے لیکن قانون کے اطلاق میں امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور یا بااثر اور بے اثر کے درمیان فرق برقرار رہے تو مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ نظام انصاف اور جواب دہی کا رہے گا
چین کے تعاون سے بننے والا نیا مرکز اسی لیے پاکستان کے لیے ایک بڑا ادارہ جاتی امتحان بھی بن سکتا ہے کہ کیا جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ قانون کی غیر جانب داری، شفافیت اور جواب دہی بھی جدید بنائی جائے گی، یا صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مزید طاقت اور وسائل آجائیں گے

قومی خبریں سے مزید