برطانیہ میں مسلمانوں اور اردو زبان کی سیاسی اہمیت پر نئی بحث، گرین پارٹی کی مہم نے قومی تنازع کھڑا کر دیا
برطانیہ میں مسلمانوں اور اسلام سے متعلق سیاسی بحث ایک بار پھر قومی سطح پر نمایاں ہو گئی ہے، جہاں گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی نے 8 اکتوبر کو ہونے والے ہولبورن اینڈ سینٹ پینکراس ضمنی انتخاب کے لیے اردو زبان میں انتخابی ویڈیو جاری کر دی،ٹائمز کے مطابق اس حلقے میں پاکستانی، ایشیائی اور مسلم آبادی کی نمایاں موجودگی کے پیش نظر گرین پارٹی نے اردو کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا، تاہم اس اقدام پر برطانوی سیاست میں اختلاف شروع ہو گیا ہے،ناقدین کا کہنا ہے کہ سیاسی مہم غیر انگریزی زبان میں چلانا سماجی یکجہتی کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے، جبکہ گرین پارٹی کا مؤقف ہے کہ مختلف زبانوں میں ووٹروں تک پہنچنا حلقے کی کثیرالثقافتی حقیقت کے مطابق سیاسی رابطے کا حصہ ہے
یہ تنازعہ محض زبان تک محدود نہیں بلکہ برطانیہ میں مسلمان ووٹروں کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کی عکاسی بھی کر رہا ہے، پولانسکی کی اردو مہم میں غزہ کا معاملہ بھی نمایاں کیا گیا ہے، جس پر مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے،اس کے نتیجے میں برطانوی سیاست میں یہ سوال دوبارہ زیر بحث ہے کہ بڑی مسلم اور ایشیائی آبادی والے حلقوں میں سیاسی جماعتیں مذہبی اور نسلی اقلیتوں سے کس انداز میں رابطہ کریں
یورپ کی سطح پر دوسری اہم بحث مسلم برادرہڈ سے متعلق پالیسی پر ہے،فرانس کی سینیٹ میں یورپی قانون سازوں، سفارت کاروں اور محققین کے ایک اجلاس میں یورپی ممالک پر زور دیا گیا کہ وہ سرحدوں سے باہر سرگرم مسلم نیٹ ورکس کے بارے میں مشترکہ حکمت عملی وضع کریں،یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب یورپ کے مختلف ممالک میں اسلام، سیاسی اسلام اور مسلم تنظیموں کے کردار کے بارے میں پالیسی اختلافات موجود ہیں،تاہم مسلم برادرہڈ سے متعلق مختلف ممالک کے قانونی اور سیاسی مؤقف یکساں نہیں ہیں






