سائبر حملے کے شبے میں ٹیکساس جانے والے تیل بردار جہاز پر کوسٹ گارڈ اور ایف بی آئی کا چھاپہ
امریکی کوسٹ گارڈ اور ایف بی آئی کے اہلکاروں نے گزشتہ ماہ ٹیکساس کی جانب آنے والے ایک غیر ملکی پرچم بردار بڑے تجارتی تیل بردار جہاز پر کارروائی کی، جب امریکی حکام کو شبہ ہوا کہ بحر اوقیانوس عبور کرتے ہوئے جہاز کا کمپیوٹر نیٹ ورک کسی غیر ملکی فریق کی جانب سے سائبر حملے کا نشانہ بنا ہے،کوسٹ گارڈ کے مطابق 21 اگست کو خصوصی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، جہاز کے معائنہ کار، کوسٹ گارڈ سائبر پروٹیکشن ٹیم اور ایف بی آئی کی سائبر ایکشن ٹیم نے جہاز پر سوار ہو کر اس کے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آپریشنل ٹیکنالوجی نظام کا جائزہ لیا
حکام نے جہاز کے عملے اور اس کی کمپنی کے آپریٹرز کے ساتھ مل کر مبینہ سائبر خطرے کو ختم کرنے کے اقدامات کیے،کوسٹ گارڈ کے مطابق واقعے کے وقت تک جہاز کے آپریشن میں کسی تعطل، جہاز کے غیر مستحکم ہونے، عملے کو جسمانی خطرے یا ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی
امریکی حکام نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ ممکنہ سائبر حملے کے پیچھے کون سا ملک یا گروہ تھا،تاہم واقعے کے بعد ایرانی سرکاری میڈیا نے اس خبر کو نمایاں طور پر نشر کیا، جس کے باعث اس واقعے پر ایران کے ممکنہ تعلق کے حوالے سے توجہ بڑھی ہے، لیکن امریکی حکومت نے ایران کو حملے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا
کوسٹ گارڈ نے جہاز کا نام ظاہر نہیں کیا، تاہم ایرانی رپورٹس میں جس جہاز کا نام سامنے آیا ہے وہ 333 میٹر طویل بہت بڑا خام تیل بردار جہاز “وی ایل پراسپیریٹی” بتایا گیا ہے، جو لائبیریا کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے،اس شناخت کی امریکی حکام نے باضابطہ طور پر تصدیق نہیں کی
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام سمندری نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں،جدید تجارتی جہازوں میں نیویگیشن، مواصلات، کارگو مینجمنٹ اور دیگر آپریشنل نظام تیزی سے نیٹ ورک سے منسلک ہو رہے ہیں، جس سے سائبر حملے کی صورت میں ڈیجیٹل خرابی کے ساتھ ساتھ حقیقی دنیا میں جہاز کی سلامتی اور نقل و حرکت بھی متاثر ہو سکتی ہے،امریکی کوسٹ گارڈ کے سائبر کمانڈ نے بھی خبردار کیا ہے کہ جہازوں کے آپریشنل ٹیکنالوجی نظام میں پرانے سافٹ ویئر، غیر محفوظ نیٹ ورک اور مناسب نیٹ ورک علیحدگی کا فقدان سائبر خطرات کو بڑھا سکتا ہے
امریکی ضوابط کے تحت کسی جہاز یا بندرگاہ کو متاثر کرنے والے حقیقی یا ممکنہ سائبر واقعے کی اطلاع کوسٹ گارڈ، ایف بی آئی اور متعلقہ وفاقی سائبر سیکیورٹی حکام کو دینا ضروری ہے،کوسٹ گارڈ کو ایسے خطرے کی صورت میں جہاز کے سائبر نظام کا معائنہ کرنے اور ضرورت پڑنے پر اس کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اختیارات بھی حاصل ہیں
یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ مبینہ حملے نے کسی واضح جسمانی نقصان یا جہاز کے آپریشن میں خلل پیدا کیے بغیر امریکی وفاقی اداروں کو سمندر میں موجود ایک بڑے تجارتی جہاز کے ڈیجیٹل نظام کی براہ راست تفتیش پر مجبور کر دیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بحری سلامتی میں سائبر سیکیورٹی اب روایتی جسمانی سیکیورٹی کے ساتھ ایک اہم محاذ بن چکی ہے






