ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور، 7 ریپبلکن ارکان ڈیموکریٹس کے ساتھ مل گئے

ایران جنگ پر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور، 7 ریپبلکن ارکان ڈیموکریٹس کے ساتھ مل گئے

امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد 220 کے مقابلے میں 204 ووٹوں سے منظور کر لی،تمام 213 ووٹ دینے والے ڈیموکریٹس کے ساتھ 7 ریپبلکن ارکان نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جس کے ذریعے صدر سے ایران کے خلاف جاری مخاصمت سے امریکی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے
یہ قرارداد میساچوسٹس کے ڈیموکریٹ رکن کانگریس سیٹھ مولٹن نے پیش کی تھی،اس میں امریکی افواج کو ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں سے نکالنے کی ہدایت کی گئی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں امریکی یا اتحادی اڈوں کے دفاع کے لیے ضروری اہلکار اس سے مستثنیٰ ہوں گے،یہ ایوان کی جانب سے ایران جنگ کے بارے میں جنگی اختیارات محدود کرنے کی تیسری کوشش ہے
قرارداد کی حمایت کرنے والے 7 ریپبلکن ارکان میں تھامس میسی، ٹام بیریٹ، وارن ڈیوڈسن، برائن فٹزپیٹرک، نینسی میس، میری اینیٹ ملر میکس اور زیک نَن شامل ہیں،ان میں سے پہلے 4 ریپبلکن ارکان جون اور جولائی میں ہونے والی سابقہ کوششوں میں بھی ایسی قراردادوں کی حمایت کر چکے ہیں، جبکہ میس، ملر میکس اور نَن نے اس بار پہلی مرتبہ حمایت میں ووٹ دیا
مشی گن کے ریپبلکن رکن ٹام بیریٹ نے ووٹنگ سے قبل کہا کہ وہ اس معاملے پر اس وقت سے مستقل مؤقف رکھتے ہیں جب جنگی اختیارات سے متعلق 60 روزہ مدت ختم ہوئی تھی،امریکی آئین کے تحت جنگ کے اعلان کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، جبکہ صدر کو مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت حاصل ہے،جنگی اختیارات سے متعلق قانون بھی صدر کے فوجی اختیارات پر مخصوص حدود عائد کرتا ہے
وائٹ ہاؤس اس نوعیت کی سابقہ قراردادوں کی قانونی حیثیت پر اعتراض کر چکا ہے، جبکہ جون میں ایوان اور سینیٹ دونوں ایک ایسی قرارداد منظور کر چکے ہیں جس میں ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا،وہ قرارداد بھی صدر تک حتمی منظوری کے لیے نہیں پہنچی،منگل کی نئی قرارداد کے سینیٹ میں پیش کیے جانے کے امکانات بھی فوری طور پر واضح نہیں تھے
یہ ووٹنگ ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران جنگ تقریباً 7 ماہ سے جاری ہے،غیر جماعتی کانگریشنل بجٹ آفس کے مطابق 1 اگست تک جنگ پر براہ راست امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ لڑائی جاری رہنے کی صورت میں ماہانہ مزید 2 سے 3 ارب ڈالر خرچ ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے

قومی خبریں سے مزید