ایف بی آئی کی نئی فائلوں میں ٹرمپ پر حملے سے پہلے تھامس کروکس کے ’نفرت انگیز‘ تبصروں کا انکشاف

ایف بی آئی کی نئی فائلوں میں ٹرمپ پر حملے سے پہلے تھامس کروکس کے ’نفرت انگیز‘ تبصروں کا انکشاف

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی جاری کردہ نئی دستاویزات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 2024 میں پنسلوانیا کے شہر بٹلر میں ہونے والے قاتلانہ حملے سے قبل حملہ آور تھامس میتھیو کروکس کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں،ایف بی آئی کی ایک تحقیقاتی دستاویز کے مطابق ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ سے کچھ دیر قبل کروکس صدر ٹرمپ کے بارے میں “نفرت انگیز” تبصرے کر رہا تھا
ایف بی آئی کی دستاویز کے مطابق ایک گواہ نے بتایا کہ وہ فائرنگ سے پہلے کروکس سے تقریباً 5 فٹ کے فاصلے پر تھا،گواہ نے اسے گرے شرٹ اور گرے پتلون، سفید کنارے والی ٹوپی اور ایک چھوٹا کینوس بیگ پہنے دیکھا،اس کے ہاتھ میں موبائل فون بھی تھا،گواہ کے مطابق ٹرمپ کے اسٹیج پر آنے سے کچھ دیر پہلے کروکس صدر کے خلاف نفرت انگیز تبصرے کر رہا تھا، تاہم گواہ یہ واضح نہیں کر سکا کہ وہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا یا تقریب کی ویڈیو بنا رہا تھا
دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ کروکس فائرنگ سے پہلے ریلی کے مقام پر ایک گروپ کے ساتھ مبینہ طور پر الجھ گیا تھا اور پولیس کے اہلکار بھی اس علاقے سے گزرے تھے،گواہ کے مطابق اس کے کچھ ہی دیر بعد کروکس عمارت پر چڑھ گیا جہاں سے اس نے ٹرمپ کو نشانہ بنایا
ایف بی آئی نے 13 جولائی 2024 کے حملے کی تحقیقات میں کروکس کو حملہ آور کے طور پر شناخت کیا تھا،ادارے نے اس وقت کہا تھا کہ وہ واقعے کو صدر ٹرمپ کے قتل کی کوشش اور ممکنہ داخلی دہشت گردی کے طور پر دیکھ رہا ہے،ایف بی آئی نے یہ بھی کہا تھا کہ ابتدائی تحقیقات میں کروکس کے اکیلے کارروائی کرنے کے شواہد ملے، تاہم اس کے محرکات اور کسی ممکنہ ساتھی کے بارے میں تحقیقات جاری رہیں
ایف بی آئی کی سابقہ بریفنگز کے مطابق کروکس کے موبائل فون، کمپیوٹرز، سوشل میڈیا، ای میل اور انٹرنیٹ سرچ ہسٹری کا بھی جائزہ لیا گیا تھا،تفتیش کاروں کو ایسی سرچز ملی تھیں جن میں جان ایف کینیڈی کے قاتل لی ہاروی اوسوالڈ کے حوالے سے معلومات، بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات، دھماکا خیز آلات اور دیگر سیاسی شخصیات سے متعلق مواد شامل تھا،تاہم ایف بی آئی نے واضح کیا تھا کہ ان شواہد سے حملے کا کوئی حتمی محرک سامنے نہیں آیا تھا
نئی دستاویز میں عینی شاہد کا بیان ایک اہم اضافی تفصیل فراہم کرتا ہے، لیکن صرف اس بیان کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کروکس کے سیاسی خیالات ہی حملے کا حتمی محرک تھے،ایف بی آئی نے اپنی تحقیقات میں بھی کہا تھا کہ آن لائن سرگرمیوں اور دیگر شواہد سے حملہ آور کی ذہنی کیفیت کے بارے میں معلومات تو ملیں، مگر ایک قطعی محرک متعین نہیں ہو سکا

قومی خبریں سے مزید