مسلمان کانگریس ویمن الیہان عمر کے خلاف مجرمانہ تحقیقات کی تصدیق، ٹام ہومن نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس کے بارڈر زار ٹام ہومن نے تصدیق کی ہے کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے حکام ڈیموکریٹک رکن کانگریس الیہان عمر سے متعلق الزامات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اسے ایک جاری مجرمانہ تحقیقات قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے تحقیقات کی نوعیت یا ممکنہ شواہد کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی
اتوار کو پروگرام “دی سنڈے بریفنگ” میں گفتگو کرتے ہوئے ہومن سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا وفاقی حکومت کے پاس اس بات کے شواہد ہیں کہ الیہان عمر نے امیگریشن یا امریکی شہریت کے حصول کے عمل میں فراڈ کیا ہو؟ ،ہومن نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاری تحقیقات کے بارے میں مخصوص معلومات نہیں دے سکتے
یہ تحقیقات ان پرانے الزامات سے متعلق بتائی جا رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا رہا ہے کہ عمر نے 2009 میں احمد نور سعید علمی نامی شخص سے شادی کی تھی اور ناقدین نے اسے ان کا بھائی قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ شادی امیگریشن مقاصد کے لیے کی گئی تھی،عمر نے اس الزام کی بارہا تردید کی ہے اور اسے بے بنیاد اور متعصبانہ قرار دیا ہے،عوامی سطح پر دستیاب معلومات میں یہ الزام ثابت نہیں ہوا اور کسی عدالت یا وفاقی ادارے نے اسے ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا
ہومن نے کہا کہ اگر کسی شخص نے امیگریشن کی خلاف ورزی یا شادی کے ذریعے فراڈ کیا ہو تو قانون سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ عمر کے خلاف ایسا کوئی جرم ثابت کرنے کے لیے حکومت کے پاس کیا شواہد موجود ہیں،انہوں نے کہا کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز تحقیقات جاری رکھے گی
یہ معاملہ ایسے وقت میں دوبارہ نمایاں ہوا ہے جب ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری مارک وین مولن نے بھی حالیہ دنوں میں عمر کے بارے میں اسی نوعیت کے الزامات دہرائے تھے، لیکن انہوں نے بھی ان الزامات کے حق میں کوئی عوامی ثبوت یا فرد جرم پیش نہیں کی،نائب صدر جے ڈی وینس بھی رواں سال کہہ چکے ہیں کہ محکمہ انصاف عمر سے متعلق امیگریشن فراڈ کے سوال کا جائزہ لے رہا ہے
دوسری جانب، ستمبر کے آغاز میں وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کانگریشنل مالیاتی معاملات سے متعلق ایک الگ تحقیقات میں عمر کو غلط کاری سے بری کر دیا گیا تھا،ہاؤس آفس آف کانگریشنل کنڈکٹ کے بورڈ نے 5 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے سفارش کی کہ ان کے مالیاتی گوشواروں سے متعلق الزامات مسترد کیے جائیں، کیونکہ عمر کی جانب سے جان بوجھ کر غلط یا نامکمل معلومات فراہم کرنے کا خاطر خواہ ثبوت نہیں ملا،یہ معاملہ موجودہ امیگریشن تحقیقات سے الگ ہے
فی الحال اہم بات یہ ہے کہ حکومت نے تحقیقات کی موجودگی کی تصدیق تو کر دی ہے، لیکن عمر کے خلاف کسی امیگریشن یا شہریت کے فراڈ کا ثبوت، فرد جرم یا حتمی قانونی نتیجہ عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا،اس لیے موجودہ مرحلے پر ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو ثابت شدہ جرم کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا،یاد رہے الہنان عمر اپنی ضرورت سے زیادہ برجستگی اور طنزیہ جوابی حملوں کے ساتھ مسئلہ فلسطین اور اسرائیلی پالیسوں کے تناظر میں اپنی سیاسی جماعت ڈیموکریٹ پارٹی میں بھی متنازعہ سمجھی جاتی ہیں





