آئی سی ای کی ریکارڈ گرفتاریاں، مگر ملک بدری اسی رفتار سے کیوں نہیں بڑھ رہی؟

آئی سی ای کی ریکارڈ گرفتاریاں، مگر ملک بدری اسی رفتار سے کیوں نہیں بڑھ رہی؟

واشنگٹن: امریکا میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی جانب سے تارکین وطن کی گرفتاریاں مسلسل ریکارڈ سطح تک پہنچ رہی ہیں، لیکن ان گرفتاریوں کے مقابلے میں ملک بدری کی تعداد میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہو رہا،رائٹرز کے مطابق اس کی بڑی وجوہات قانونی رکاوٹیں، عدالتی کارروائیاں اور ملک بدری کے لیے درکار انتظامی و لاجسٹک صلاحیت کی حدود ہیں
ابتدائی امریکی حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ICE نے تقریباً 51,000 افراد کو گرفتار کیا، جو مسلسل تیسرے ماہ نیا ریکارڈ تھا،اس کے باوجود ملک بدری کی روزانہ اوسط تعداد تقریباً 1,200 رہی۔ مئی میں بھی روزانہ تقریباً اتنے ہی افراد کو ملک بدر کیا گیا تھا، حالانکہ اس وقت گرفتاریاں اگست کے مقابلے میں تقریباً 19,000 کم تھیں
رائٹرز کے مطابق گرفتاریوں اور ملک بدری کے درمیان یہ فرق اس بات سے بھی جڑا ہے کہ ICE کن افراد کو گرفتار کر رہی ہے،جولائی میں مجرمانہ سزا یافتہ افراد گرفتار کیے گئے لوگوں کا ایک چوتھائی سے بھی کم تھے، جبکہ گرفتاریوں میں ایسے افراد کی تعداد تیزی سے بڑھی جن کے خلاف نہ حتمی ملک بدری کا حکم تھا اور نہ مجرمانہ سزا
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کی ترجیح ایسے افراد ہیں جو امریکا میں غیرقانونی طور پر موجود ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے خطرہ ہیں،تاہم حکومتی اعداد و شمار کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جولائی میں گرفتار کیے گئے نصف سے زیادہ افراد کو کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی تھی اور ان میں سے بڑی تعداد کے خلاف فوجداری الزامات بھی نہیں تھے
گرفتاریوں میں اضافے کے لیے ICE نے مقامی پولیس کے ساتھ تعاون، نگرانی کی ٹیکنالوجی اور مختلف وفاقی اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ میں اضافہ کیا ہے،ٹریفک اسٹاپس، گھروں اور کام کی جگہوں کے علاوہ امیگریشن عدالتوں اور معمول کی امیگریشن ملاقاتوں کے دوران بھی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں
لیکن گرفتاری کے بعد فوری ملک بدری ہر شخص کے لیے ممکن نہیں،جن افراد کے پاس زیرِ التوا پناہ کی درخواستیں، گرین کارڈ کی درخواستیں یا دیگر قانونی دعوے موجود ہیں، ان کے مقدمات مکمل ہونے تک انہیں ملک بدر کرنے میں قانونی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں،اس کے علاوہ حراستی مراکز، پروازوں اور بعض ممالک کی جانب سے اپنے شہریوں کو واپس لینے کی صلاحیت بھی ملک بدری کی رفتار کو محدود کرتی ہے
یوں ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع پیمانے پر ملک بدری کی مہم میں ایک نمایاں تضاد سامنے آ رہا ہے،ICE گرفتاریاں تیزی سے بڑھا رہی ہے، لیکن ہر گرفتاری فوری ملک بدری میں تبدیل نہیں ہو رہی،یہی قانونی اور انتظامی فرق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑے پیمانے پر ملک بدری کے ہدف کے حصول کو مشکل بنا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید