حکومت کا پٹرول ریلیف منصوبہ عوام کو مہنگائی سے مکمل تحفظ نہیں دے سکے گا

حکومت کا پٹرول ریلیف منصوبہ عوام کو مہنگائی سے مکمل تحفظ نہیں دے سکے گا

حکومت نے پٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے 75 ارب روپے کا ریلیف پیکیج متعارف کرایا ہے، تاہم اس امداد سے مہنگائی کے مجموعی بوجھ میں محدود کمی ہی آنے کا امکان ہے
منصوبے کے تحت موٹر سائیکل مالکان کو ماہانہ 2,000 روپے جبکہ چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 3,000 روپے کی سبسڈی دینے کی تجویز ہے تاہم امداد حاصل کرنے کے لیے گاڑی اور سم کی ملکیت سمیت کچھ شرائط پوری کرنا ضروری ہوں گی، جس کے باعث معاشرے کے تمام کم آمدنی والے طبقات اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے
سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت بڑھنے سے صرف گاڑی چلانے والوں کے اخراجات نہیں بڑھتے بلکہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں، خوراک اور روزمرہ استعمال کی دوسری اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر پڑتا ہے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے غریب خاندانوں کو براہ راست پٹرول سبسڈی سے کوئی فائدہ نہیں ملتا، حالانکہ وہ بھی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے شدید متاثر ہوتے ہیں
حالیہ عالمی حالات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 135 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں کے حساب کے لیے تقریباً 120 سے 122 ڈالر فی بیرل کا معیار استعمال کیا جا رہا تھا اندازے کے مطابق عالمی تیل کی قیمت میں ہر 1 ڈالر اضافے سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 1.80 روپے فی لیٹر بڑھ سکتی ہے
اگر عالمی تیل کی قیمت میں 10 ڈالر کا اضافہ طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو پاکستان کے درآمدی بل پر سالانہ تقریباً 1 ارب سے 1.25 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے اس سے ملک کے پہلے ہی محدود زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ آنے کا خدشہ ہے
حکومت کے لیے پٹرولیم لیوی کم کرکے تمام صارفین کو ریلیف دینا بھی آسان نہیں، کیونکہ اس سے سرکاری آمدنی میں بڑا خلا پیدا ہو سکتا ہے اسی لیے زیادہ مؤثر راستہ یہ قرار دیا جا رہا ہے کہ امداد گاڑی کی ملکیت کے بجائے خاندان کی آمدنی اور حقیقی ضرورت کی بنیاد پر دی جائے
اس مقصد کے لیے موجودہ سماجی امدادی نظام کے ذریعے مستحق خاندانوں کو براہ راست نقد رقم فراہم کی جا سکتی ہے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق پٹرول، بس کا کرایہ، خوراک یا دیگر بنیادی اشیا خرید سکیں اس طریقے سے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والے غریب خاندان بھی ریلیف حاصل کر سکیں گے
حکومت کے لیے ایک اور بڑا چیلنج یہ ہے کہ پٹرول مہنگا ہونے کے بعد اشیا اور ٹرانسپورٹ کے نرخ تیزی سے بڑھ جاتے ہیں، لیکن پٹرول سستا ہونے پر قیمتیں اسی رفتار سے نیچے نہیں آتیں اس لیے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو اشیائے ضروریہ اور ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی نگرانی زیادہ مؤثر انداز میں کرنا ہوگی
یوں موجودہ پٹرول ریلیف منصوبہ فوری طور پر کچھ خاندانوں کا بوجھ کم تو کر سکتا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی عالمی تیل قیمتوں، مہنگائی اور درآمدی دباؤ کا مستقل حل نہیں اصل ضرورت ایسے ریلیف نظام کی ہے جو گاڑی رکھنے والے شخص کے بجائے کم آمدنی اور حقیقی ضرورت کو بنیاد بنائے

قومی خبریں سے مزید