یوفون کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ حکومت کی منظوری کا منتظر

یوفون کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ حکومت کی منظوری کا منتظر

یوفون کا نیا نام رکھنے کا معاملہ حکومت کی منظوری نہ ملنے کے باعث ابھی تک زیرِ التوا ہے یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد کمپنی نے اپنا نام تبدیل کرکے متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی کے نام سے منسلک کرنے کی درخواست دی تھی، تاہم اس کے لیے حکومتی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کو بتایا کہ نجکاری کمیشن نے اتھارٹی کو یوفون کے نئے نام کی منظوری دینے سے روک دیا ہے ان کے مطابق اس معاملے کی منظوری پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی سطح پر بھی درکار ہے
حکام کے مطابق یوفون کی انتظامیہ نے ٹیلی نار پاکستان کے انضمام کے بعد اپنے برانڈ کا نام تبدیل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم اس معاملے پر مسابقتی کمیشن اور ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے درمیان بھی مختلف آرا سامنے آئی ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہو سکا
دوسری جانب ملک کے بڑے شہروں میں موبائل نیٹ ورک اور رابطے کے مسائل بھی سینیٹ کمیٹی میں زیرِ بحث آئے ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین نے ان مسائل کی ایک بڑی وجہ یوفون اور ٹیلی نار کے انضمام اور 5G سروسز کے آغاز کو قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ صورتحال اگلے ماہ تک بہتر ہونے کی توقع ہے
کمیٹی نے سیٹلائٹ رابطے کے ایک اور اہم معاملے پر بھی تشویش کا اظہار کیا پاکستان ڈیٹا کام کی جانب سے قومی سیٹلائٹ نظام پاک سیٹ کے بجائے متحدہ عرب امارات کے سیٹلائٹ نظام سے رابطہ منتقل کرنے کے فیصلے پر ارکان نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس کے قومی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
اس کے علاوہ اسٹار لنک کی لائسنس سے متعلق معاملہ بھی کمیٹی میں زیرِ بحث آیا، تاہم اس پر مزید غور مؤخر کر دیا گیا حکام نے بتایا کہ اس وقت ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے پاس اسٹار لنک کی کوئی لائسنس درخواست زیرِ التوا نہیں اور معاملہ دیگر سرکاری اداروں کی منظوری سے مشروط ہے

قومی خبریں سے مزید