ڈرون حملے سے سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن ہفتوں بند رہے گی، عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا

ڈرون حملے سے سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن ہفتوں بند رہے گی، عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا

قاہرہ: سعودی عرب کی تیل کی ایک انتہائی اہم پائپ لائن پر ڈرون حملے کے نتیجے میں اسے پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں، جس کے باعث پائپ لائن زیادہ تر عرصے تک بند رہے گی اور عالمی منڈی میں سعودی تیل کی ترسیل مزید محدود ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، اس تازہ حملے کے بارے میں سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ ڈرون عراق سے لانچ کیے گئے تھے،سعودی حکام نے بتایا کہ کئی ڈرونز عراق کی سمت سے آئے اور ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنایا،عراقی حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ حملے عراق کی سرزمین سے کیے گئے اور تحقیقات کا حکم دیا
علاقائی حکام کے مطابق حملے سے متاثر ہونے والی پائپ لائن کی بحالی کا کام جاری ہے، تاہم اس دوران سعودی عرب کے لیے اپنی خام تیل کی پیداوار کو عالمی منڈی تک پہنچانا مزید مشکل ہوگا،نئی پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے بارے میں تشویش بڑھی اور تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا
سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے، لیکن ایران کے ساتھ جاری جنگ نے اس کی برآمدی حکمت عملی کو شدید متاثر کیا ہے،خلیج فارس میں ایرانی حملوں کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب نے اپنی تیل کی برآمدات کا بڑا حصہ متبادل راستے سے منتقل کرنا شروع کیا تھا
اس مقصد کے لیے سعودی عرب اپنی تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر انحصار کر رہا ہے، جو خلیج فارس کے ساحلی علاقوں سے خام تیل کو ملک کے مغرب میں بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے،وہاں سے تیل ٹینکروں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک بھیجا جاتا ہے
تاہم پائپ لائن پر تازہ حملہ سعودی عرب کے اس متبادل برآمدی نظام کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔ اسی دوران یمن کے حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کے اہم راستوں کے قریب مزید جزائر پر قبضے نے خطے میں تیل اور تجارتی سپلائی کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے
موجودہ صورتحال میں خدشہ ہے کہ اگر سعودی عرب کی روایتی خلیجی برآمدات آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث محدود رہیں اور بحیرہ احمر تک پہنچنے والا متبادل پائپ لائن نظام بھی متاثر ہو، تو عالمی تیل مارکیٹ میں سپلائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے،یہ صورتحال خصوصاً ان ممالک کے لیے اہم ہے جو سعودی خام تیل کی برآمدات پر انحصار کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید