امریکا نے پہلی بار خلا میں جارحانہ خلائی ہتھیار تعینات کرنے کی تصدیق کردی، چین اور روس کے پروگراموں کا حوالہ

امریکا نے پہلی بار خلا میں جارحانہ خلائی ہتھیار تعینات کرنے کی تصدیق کردی، چین اور روس کے پروگراموں کا حوالہ

واشنگٹن: امریکا نے پہلی بار باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے زمین کے مدار میں ایک خلائی ہتھیار تعینات کیا ہے، جسے امریکی حکام نے دشمن کی ممکنہ کارروائیوں سے امریکی فوجی افواج اور خلائی اثاثوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا ہے
امریکی سیکریٹری ایئر فورس ٹرائے مینک نے پیر کے روز ایئر، اسپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے مدار میں ایسا ہتھیار تعینات کیا ہے جو خلا میں امریکی مفادات کے دفاع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے،تاہم انہوں نے اس ہتھیار کی نوعیت، صلاحیت، تعیناتی کی درست تاریخ یا اس کے ممکنہ اہداف کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کیں
مینک نے کہا کہ امریکی فوج کو بدلتے ہوئے اور پیچیدہ خطرات کا سامنا ہے اور خلا میں امریکی فوجی صلاحیتوں کو ان خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار رکھنا ضروری ہے
امریکی فوجی قیادت پہلے بھی خبردار کرتی رہی ہے کہ روس اور چین ایسے پروگرام تیار کر رہے ہیں جن کے ذریعے مستقبل کے کسی تنازعہ میں امریکی مصنوعی سیاروں کو نشانہ بنایا، ان کے نظام میں خلل ڈالا یا انہیں ناکارہ بنایا جا سکتا ہے،واشنگٹن اسی خدشے کو خلا میں اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیتا ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے مجوزہ “گولڈن ڈوم” دفاعی نظام میں بھی خلائی صلاحیتوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے،اس منصوبے کا مقصد امریکا کو میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات سے تحفظ فراہم کرنا ہے، جس کے لیے خلا میں تعینات نظام اور انٹرسیپٹر میزائلوں سمیت مختلف ٹیکنالوجیز استعمال کرنے کا منصوبہ ہے
امریکا کی جانب سے مدار میں خلائی ہتھیار کی تعیناتی کی پہلی باضابطہ تصدیق اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس سے خلا میں فوجی طاقت کے بڑھتے ہوئے مقابلے کا ایک نیا مرحلہ کھل سکتا ہے،تاہم امریکی حکومت نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ تعینات کیا گیا ہتھیار کس نوعیت کا ہے اور اسے دشمن کے کس قسم کے خلائی نظام کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید