ٹی ایل پی کے اہم رہنما گرفتار، دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کا الزام
وفاقی تحقیقاتی ادارے نے تحریک لبیک پاکستان کے شمالی پنجاب کے امیر سید عنایت الحق شاہ کو دہشت گردی کے لیے مالی معاونت سمیت مختلف الزامات کے تحت گرفتار کرلیا ہے عدالت نے ملزم کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی منظور کرلیا ہے
حکام کے مطابق عنایت الحق شاہ ان 8 اہم مالی معاونین میں شامل ہیں جنہیں لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا ان کی گرفتاری راولپنڈی میں موجودگی کا سراغ لگانے کے بعد کی گئی
تحقیقات کے دوران تفتیشی حکام نے تقریباً 1,800 مشتبہ بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں عنایت الحق شاہ، ان کے خاندان کے افراد اور دیگر متعلقہ افراد نے ممنوعہ تنظیم کی مالی معاونت کے لیے استعمال کیا
حکام کے مطابق 13 اور 14 اکتوبر 2025 کو ایک مدرسے کے اکاؤنٹ سے 1 کروڑ 34 لاکھ روپے نقد نکلوائے گئے یہ رقم اس وقت نکالی گئی جب ٹی ایل پی کا احتجاجی مارچ لاہور سے نکل کر مریدکے پہنچا تھا تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ رقم کی غیر معمولی منتقلی نے اس کے احتجاجی مارچ کے لیے استعمال ہونے کا شبہ پیدا کیا
تحقیقات میں عنایت الحق شاہ اور ان کے والد سید ضیاء الحق شاہ کے ذاتی اکاؤنٹس کے علاوہ مذہبی اداروں اور مدارس سے منسلک اکاؤنٹس میں بھی احتجاج کے دنوں سے قبل اور دوران غیر معمولی مالی سرگرمی سامنے آئی
حکام کے مطابق دونوں افراد کو رقم کے ذرائع، مقصد، استعمال اور منتقلی کی وضاحت کے لیے تفتیش میں شامل ہونے کا کہا گیا تھا، تاہم وہ مقررہ کارروائی میں پیش نہیں ہوئے
تفتیشی ادارے کا کہنا ہے کہ مالی معاملات کی مزید چھان بین جاری ہے اور مشتبہ اکاؤنٹس، رقم کی منتقلی اور احتجاجی سرگرمیوں کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا جا رہا ہے معاملے میں مزید گرفتاریاں اور کارروائی بھی متوقع ہے





