پشاور میں اجتماعی زیادتی کے 4 زیرحراست ملزمان کا پراسرار قتل، ’’پولیس مقابلوں‘‘ کا بڑھتا رجحان، ماورائے عدالت قتل عام ریاستی پالیسی بن چکی
پشاور میں خواتین سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں گرفتار چاروں ملزمان کو پولیس کے مطابق جائے واردات کی نشاندہی کے لیے لے جایا جارہا تھا کہ حسبِ معمول و دستور روایتی نامعلوم مسلح افراد نے پولیس پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں چاروں زیرحراست ملزمان ہلاک ہوگئے، جبکہ پولیس اہلکار ہمیشہ کی طرح محفوظ رہے اور ملزمان دستور و روایت کے عین مطابق فرار ہوگئے اور پولیس نے بھی عین اسکرپٹ کے مطابق واقعے کی تحقیقات اور نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب پاکستان میں زیرحراست ملزمان کے ’’پولیس مقابلوں‘‘ میں مارے جانے کے واقعات نے ایک مرتبہ پھر قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام پر بنیادی سوالات کھڑے کردیئے ہیں، اور اب عمومی خیال یہ ہے کے ریاست نے قتل ، جنسی زیادتی اور اشرافیہ کے یہاں ڈکیتی کی وارداتوں کے شبے میں ملوث افراد کو ایسی تحقیقاتی کاروائی کے دوران قتل کرنا غیر اعلانیہ ریاستی پالیسی بن چکی ہے ، خاص طور پر ایسے مقدمات میں جن میں قتل، ڈکیتی، اغوا یا جنسی زیادتی جیسے سنگین الزامات ہوں، عام طور پر پولیس کا مؤقف یہی سامنے آتا ہے کہ ملزم کو اسلحہ یا جائے وقوعہ کی نشاندہی، برآمدگی یا ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے لے جایا جارہا تھا، اسی دوران مسلح ساتھیوں نے پولیس پر حملہ کیا اور فائرنگ کے تبادلے میں زیرحراست ملزم مارا گیا،اس کے بعد حملہ آوروں کے فرار ہونے کی روایت بھی تقریباً ایک جیسی رہتی ہے
اس معاملے میں بھی چاروں ملزمان پہلے گرفتار کیے جاچکے تھے، پولیس کے مطابق واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا تھا، پھر انہیں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا گیا جہاں نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی،نتیجہ یہ نکلا کہ جن چار افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلنا تھا، ان کی زندگی ہی ختم ہوگئی
اصل سوال یہ نہیں کہ ان چاروں افراد پر عائد اجتماعی زیادتی کا الزام درست تھا یا غلط،اگر الزام درست تھا تو بھی قانون کے مطابق انہیں عدالت میں پیش کیا جانا، ثبوت پیش کیے جانا، گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہونا اور انہیں سزا دلوانا ریاست کی ذمہ داری تھی،اگر الزام غلط تھا تو عدالت ہی وہ فورم تھا جہاں وہ اپنی بے گناہی ثابت کرسکتے تھے،عدالت تک پہنچنے سے پہلے کسی ملزم کی موت، الزام کو جرم ثابت نہیں بناتی بلکہ مقدمے کے تمام شواہد اور اصل حقیقت کو ہمیشہ کے لیے متنازع بنا دیتی ہے
یہی خدشہ پنجاب میں بڑھتے ہوئے پولیس مقابلوں کے بارے میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی ظاہر کیا ہے،انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے مطابق 2025 کے پہلے 8 ماہ میں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے کم از کم 670 مبینہ پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد مارے گئے، جبکہ اسی عرصے میں صرف 2 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے،کمیشن نے اس غیر معمولی فرق اور مختلف اضلاع میں ایک جیسے واقعات کے مسلسل نمونے کو محض الگ الگ واقعات کے بجائے ایک ادارہ جاتی طرز عمل قرار دیتے ہوئے اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا
پنجاب پولیس کا مؤقف اس کے برعکس ہے،کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی ’’جعلی مقابلوں‘‘ کی پالیسی نہیں اور کارروائیوں میں گرفتاری بنیادی مقصد ہے، جبکہ طاقت کا استعمال قانون، ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے تحت کیا جاتا ہے
مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک گرفتار شخص پولیس کی تحویل میں مارا جاتا ہے اور پولیس ہر مرتبہ یہ بتاتی ہے کہ اسے نشاندہی یا برآمدگی کے لیے لے جایا گیا تھا، پھر اچانک مسلح افراد حملہ کرتے ہیں، پولیس اہلکار محفوظ رہتے ہیں اور زیرحراست شخص ہلاک ہوجاتا ہے، تو ہر واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہوجاتی ہیں۔ ورنہ یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ عدالت کے ذریعے جرم ثابت کرنے کے بجائے سڑک پر ہی ’’فیصلہ‘‘ کردیا جاتا ہے، پھر طرُفہ تماشا یہ بھی ہے وہ “ نامعلوم “ ملزمان جو ہمیشہ اپنے ساتھی کو چھڑانے کے نام پر قتل کرکے فرار ہوتے ہیں تاریخی طور پر کبھی پکڑے گئے نہ انکے نام پتے کبھی منظر پر لائے گئے ، جبکہ ایسے واقعات میں اکثر وہ ملزمان بھی نامعلوم ملزمان کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں جنکا نہ تو کبھی کسی گینگ سے تعلق بتایا جاتا ہے اور نہ ہی ملزمان کی واردات یہ ثابت کرتی ہے کہ ملزم کی جانب سے کی گئی کاروائی یا واردات میں کسی گینگ کی موجودگی بھی ہوسکتی ہے
یہ رجحان صرف پنجاب تک محدود نہیں،انسانی حقوق کے کمیشن نے طویل عرصے سے سندھ سمیت دوسرے صوبوں میں بھی پولیس مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی ہے،2026 کے ایک تجزیے میں کمیشن کے حوالے سے یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مقابلوں کی تاریخ پاکستان میں پرانی ہے اور مختلف ادوار میں یہ طریقہ دوسرے صوبوں تک پھیلتا رہا ہے
پشاور کا تازہ واقعہ اسی بڑے مسئلے کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے،اجتماعی زیادتی جیسے انتہائی سنگین جرم کے ملزمان کے خلاف عوامی غصہ فطری ہے، لیکن ریاست کا امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ سب سے سنگین الزام کے ملزم کو بھی عدالت کے سامنے کھڑا کرے، نہ کہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے اس کی موت کا راستہ کھلے،بصورت دیگر ایک طرف جرائم کے خلاف ریاستی کارروائی کمزور ہوتی ہے اور دوسری طرف پولیس کو عدالت، تفتیش اور استغاثے کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کا خطرناک رجحان مضبوط ہوتا ہے
جرائم میں اضافہ اگر ریاست کو زیادہ سخت کارروائی پر مجبور کرتا ہے تو اس کا جواب قانون سے باہر نکلنا نہیں ہوسکتا،مؤثر تفتیش، فرانزک شواہد، گواہوں کا تحفظ، فوری مقدمات اور یقینی سزا ہی وہ راستہ ہے جس سے جرم کم ہوسکتا ہے،پولیس کے ہاتھوں ملزمان کی ہلاکتیں وقتی طور پر ’’انصاف‘‘ کا تاثر دے سکتی ہیں، مگر جب عدالت میں مقدمہ ہی نہ چلے تو یہ معلوم کرنا بھی ممکن نہیں رہتا کہ مارا جانے والا شخص واقعی مجرم تھا یا محض الزام کا سامنا کررہا تھا،یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے پشاور کے اس واقعے کو محض ایک پولیس کارروائی کے بجائے پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے رجحان کا ایک اہم معاملہ بنا دیا ہے





