امریکی قیادت میں اتحادی افواج کا عراق کے کرد علاقے سے انخلا شروع
امریکی قیادت میں داعش کے خلاف قائم بین الاقوامی اتحاد نے عراق کے خودمختار کرد علاقے سے اپنی افواج کا عملی انخلا شروع کردیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عراق سے اتحادی افواج کے مکمل انخلا کے لیے 30 ستمبر کی حتمی تاریخ مقرر ہے
کردستان کے وزیر داخلہ ریبر احمد کے مطابق اتحادی افواج نے عراق سے نکلنے کا عمل سنجیدگی سے شروع کردیا ہے اور روزانہ فوجی دستوں کو عراق سے باہر منتقل کیا جارہا ہے ایک عراقی عہدیدار کے مطابق اتحادی افواج کی موجودگی اب محدود ہو کر اربیل کے ہوائی اڈے تک رہ گئی ہے
عراق اور امریکا کے درمیان 2024 میں ہونے والے معاہدے کے تحت بین الاقوامی اتحادی افواج کا عراق میں فوجی مشن ستمبر کے اختتام تک ختم ہونا ہے عراقی وزیراعظم علی الفلاح الزیدی نے بھی 30 ستمبر کو انخلا کی حتمی تاریخ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یکم اکتوبر سے عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگا
امریکی فوج عراق میں 2003 کے امریکی حملے کے بعد طویل عرصے تک موجود رہی۔ 2011 میں امریکی جنگی افواج کے انخلا کے بعد 2014 میں داعش کے عراق اور شام کے بڑے علاقوں پر قبضے کے نتیجے میں امریکا دوبارہ بین الاقوامی اتحاد کے ساتھ عراق واپس آیا عراق نے 2017 میں داعش کو ملک میں شکست دینے کا اعلان کیا جبکہ شام میں تنظیم کے آخری بڑے علاقے کا خاتمہ 2019 میں ہوا
اب اتحادی افواج کے انخلا کے بعد عراق کی سکیورٹی کی بنیادی ذمہ داری عراقی فوج اور کردستان کی پیشمرگہ سمیت مقامی سکیورٹی فورسز کے پاس ہوگی تاہم یہ منتقلی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرکے تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے کا معاملہ بھی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے
کردستان کے دارالحکومت اربیل میں امریکی فضائی دفاعی نظام بھی موجود رہے ہیں، جو حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں اور ڈرونز کےخلاف دفاع میں اہم کردار ادا کرتے رہے امریکی افواج اور دفاعی نظام کے انخلا کے بعد یہ سوال اہم ہوگیا ہے کہ شمالی عراق کو بیرونی میزائل اور ڈرون حملوں سے تحفظ کون فراہم کرے گا
امریکی انخلا کو خطے میں واشنگٹن کی فوجی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی بھی سمجھا جارہا ہے اگرچہ فوجی موجودگی ختم ہورہی ہے، لیکن امریکا عراق کے ساتھ سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس اور معاشی تعاون برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے
داعش کی علاقائی طاقت ختم ہونے کے باوجود اس کے جنگجو مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، جبکہ عراق میں مختلف مسلح گروہوں کی موجودگی ملک کی سلامتی اور سیاسی استحکام کے لیے مسلسل چیلنج ہے اسی لیے امریکی قیادت میں اتحادی افواج کا انخلا عراق کے لیے صرف غیر ملکی فوج کے خاتمے کا معاملہ نہیں بلکہ اپنی سکیورٹی مکمل طور پر خود سنبھالنے کا ایک بڑا امتحان بھی ہے






