فرانس میں جیفری ایپسٹین نیٹ ورک کی تحقیقات، مزید ممکنہ بھرتی کاروں کے نام سامنے آگئے

فرانس میں جیفری ایپسٹین نیٹ ورک کی تحقیقات، مزید ممکنہ بھرتی کاروں کے نام سامنے آگئے

فرانس میں امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے لیے خواتین کی مبینہ اسمگلنگ اور بھرتی کے معاملے کی تحقیقات میں تفتیش کاروں کو مزید ممکنہ بھرتی کاروں کے نام مل گئے ہیں
پیرس کی پراسیکیوٹر لور بی کوا نے بتایا ہے کہ تحقیقات میں کئی نئے سراغ سامنے آئے ہیں اور حکام ایسے افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جن پر ایپسٹین کے نیٹ ورک کے لیے خواتین کو بھرتی کرنے میں کردار ادا کرنے کا شبہ ہے ان کے مطابق یہ نیٹ ورک انتہائی پیچیدہ اور کئی شاخوں پر مشتمل ہے، اس لیے تحقیقات میں ایک کے بجائے درجنوں مختلف راستوں پر کام کرنا پڑ رہا ہے
تحقیقات میں نیویارک کے علاوہ فرانس کے سینٹ ٹروپے اور کانز تک بھی سراغ پہنچے ہیں فرانس نے اس معاملے میں انسانی اسمگلنگ کی تحقیقات اس وقت شروع کی تھیں جب امریکی حکام نے جنوری میں ایپسٹین سے متعلق مزید دستاویزات جاری کی تھیں ایپسٹین 2019 میں جیل میں اس وقت ہلاک ہوگیا تھا جب اس پر کم عمر لڑکیوں کی جنسی اسمگلنگ کے الزامات میں مقدمہ چل رہا تھا
فرانسیسی حکام کے مطابق اب تک 26 متاثرین کی شناخت ہوچکی ہے، جن میں 8 سے ابھی پوچھ گچھ باقی ہے کیونکہ وہ بیرون ملک مقیم ہیں حکام کا کہنا ہے کہ ان 26 میں سے 13 متاثرین ایسے ہیں جو اس سے پہلے ایپسٹین سے متعلق کسی قانونی کارروائی میں سامنے نہیں آئے تھے
یہ تحقیقات فرانس کی ماڈلنگ انڈسٹری تک بھی پھیل چکی ہیں فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد، جس پر ایپسٹین کے لیے خواتین کی مبینہ اسمگلنگ میں مدد کرنے کا الزام تھا، جولائی میں اپنے گھر میں مردہ پایا گیا تھا اور اس سے تفتیش نہیں ہوسکی اس سے قبل ماڈلنگ ایجنٹ ژاں لوک برونیل کو بھی 2020 میں خواتین کو ایپسٹین تک پہنچانے کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا، جو 2022 میں جیل میں مردہ پایا گیا
فرانسیسی حکام نے سابق ماڈلنگ ایجنسی سربراہ جیرالڈ میری کے خلاف جنسی زیادتی اور ریپ کے الزامات کی بھی پہلے تحقیقات کی تھیں، تاہم مبینہ واقعات پر قانونی مدت گزر جانے کے باعث کارروائی ختم کردی گئی تھی ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات سامنے آنے کے بعد متعدد خواتین نے ان کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ میری نے الزامات کی تردید کی ہے

قومی خبریں سے مزید