غزہ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بنائی گئی فلم کے لیے وینس میں 25 منٹ تک تالیاں
غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق نئی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ نے وینس فلم فیسٹیول میں زبردست توجہ حاصل کی فلم کی نمائش ختم ہونے کے بعد حاضرین نے تقریباً 25 منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں
اسرائیلی ہدایت کار یووال ابراہم اور ریچل سور کی بنائی ہوئی اس فلم میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ 24 سابق یا موجودہ اہلکاروں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں ان افراد کی شناخت فلم میں خفیہ رکھی گئی ہے
فلم میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ غزہ میں اہداف کی نشاندہی اور نگرانی کے لیے مصنوعی ذہانت سے مدد لینے والے نظام استعمال کیے گئے بعض سابق اہلکاروں کے مطابق موبائل فونز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا اور دیگر معلومات کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت اور ممکنہ اہداف کا پتا لگایا جاتا تھا، جس کے بعد بعض عمارتوں اور گھروں کو نشانہ بنایا جاتا تھا
فلم میں شامل بعض افراد نے بتایا کہ کچھ حملوں کے وقت فوج کو یہ معلوم ہوتا تھا کہ ممکنہ ہدف کے ساتھ اس کے خاندان کے افراد یا دیگر شہری بھی موجود ہیں فلم سازوں کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ غزہ میں شہری ہلاکتوں کے معاملے میں صرف انفرادی فوجیوں ہی نہیں بلکہ پورے نظام، احکامات اور فیصلوں کے کردار کو بھی دیکھا جانا چاہیے
فلم کے ہدایت کاروں نے انٹرویو دینے والے اہلکاروں کی شناخت چھپانے کے لیے ان کے چہروں اور آوازوں میں تبدیلی کی بعض انٹرویوز رات کے وقت تل ابیب میں ریکارڈ کیے گئے تاکہ ان افراد کی شناخت ظاہر نہ ہو
اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ وہ شہریوں کو نقصان سے بچانے کی کوشش کرتی ہے اور مصنوعی ذہانت کو اہداف کی نشاندہی میں معاونت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاہم حملے کا حتمی فیصلہ انسان ہی کرتے ہیں اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس شہری علاقوں میں کارروائیاں کرتی ہے اور شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے، جبکہ حماس اس الزام کی تردید کرتی ہے
فلم ’’نازا‘‘ وینس فلم فیسٹیول کے مقابلے میں شامل دستاویزی فلموں میں سے ایک ہے نمائش کے بعد 25 منٹ تک جاری رہنے والی تالیاں اس بات کا اظہار تھیں کہ فلم نے فیسٹیول میں موجود ناظرین کے درمیان گہرا ردعمل پیدا کیا
ہدایت کار یووال ابراہم اور ریچل سور اس سے قبل ’’نو ادر لینڈ‘‘ کے شریک ہدایت کار بھی رہ چکے ہیں، جس نے 2025 میں بہترین دستاویزی فلم کا آسکر ایوارڈ حاصل کیا تھا نئی فلم میں دونوں نے غزہ کی جنگ اور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ فوجی استعمال کو اسرائیلی فوجی نظام سے وابستہ افراد کی گواہیوں کے ذریعے سامنے لانے کی کوشش کی ہے





