کراچی میں ڈالا کلچر کا خوفناک چہرہ، جامعہ کراچی کے پی ایچ ڈی استاد کو مبینہ طور پر تشدد کے بعد اغوا کیا گیا

کراچی میں ڈالا کلچر کا خوفناک چہرہ، جامعہ کراچی کے پی ایچ ڈی استاد کو مبینہ طور پر تشدد کے بعد اغوا کیا گیا

کراچی:کراچی میں بااثر افراد کے پروٹوکول اور ڈالا کلچر نے ایک بار پھر قانون کی عمل داری پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں،جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامک لرننگ کے چیئرمین اور پی ایچ ڈی استاد ڈاکٹر عارف ساقی کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ تشدد، اغوا اور بدسلوکی کے واقعے نے اساتذہ، طلبہ اور شہری حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے
دستیاب معلومات اور ڈاکٹر عارف ساقی کے بیان کے مطابق وہ اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ ایک ڈالا سوار افراد نے ایک موٹر سائیکل سوار بچے کے معاملے پر انہیں مبینہ طور پر روکا،واقعے کے دوران مبینہ طور پر ان کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا، انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسلحے کی نمائش بھی کی گئی،ڈاکٹر عارف ساقی کے مطابق اس کے بعد انہیں زبردستی ایک مقام پر لے جایا گیا جہاں ان کے ساتھ دوبارہ مبینہ طور پر تشدد کیا گیا اور سر پر بھی چوٹیں پہنچائی گئیں
ڈاکٹر عارف ساقی کے بیان کے مطابق واقعے کے دوران رینجرز بھی موقع پر پہنچی، تاہم ان کے بقول صورت حال میں فوری طور پر کوئی مؤثر پیش رفت نہ ہوسکی،بعدازاں ملیر کینٹ پولیس نے انہیں مبینہ طور پر بازیاب کرایا، جس کے بعد انہوں نے پولیس کو پورا واقعہ بیان کیا
یہ واقعہ محض ایک استاد کے ساتھ مبینہ زیادتی کا معاملہ نہیں بلکہ کراچی میں قانون کی بالادستی کے حوالے سے ایک انتہائی سنجیدہ سوال بن کر سامنے آیا ہے،اگر ایک ایسے استاد کو، جو جامعہ کراچی میں سینکڑوں طلبہ کی تعلیم و تربیت سے وابستہ ہے، مبینہ طور پر سڑک سے اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو عام شہری اپنے تحفظ اور انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دے؟
کراچی میں طویل عرصے سے بااثر گاڑیوں، سرکاری یا سیاسی پروٹوکول اور مسلح افراد کی سڑکوں پر مبینہ دھونس شہریوں کے لیے خوف کی علامت بنتی جا رہی ہے،کسی گاڑی پر سرکاری نمبر پلیٹ، پروٹوکول یا مسلح افراد کی موجودگی قانون سے بالاتر ہونے کا اختیار نہیں دیتی، لیکن اگر شہری کو صرف اس بنیاد پر تشدد کا سامنا کرنا پڑے کہ سامنے والا خود کو زیادہ طاقتور سمجھتا ہے تو یہ ریاستی رٹ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے
ڈاکٹر عارف ساقی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے نے جامعہ کراچی کے طلبہ اور اساتذہ میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے،اساتذہ اور شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی فوری، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کی جائیں، مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت کی جائے، ان کے سیاسی یا سرکاری تعلقات کی کسی رعایت کے بغیر تحقیقات ہوں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے
ریاست کی ذمہ داری صرف طاقتور افراد کو تحفظ فراہم کرنا نہیں بلکہ کمزور اور عام شہری کو یہ یقین دلانا بھی ہے کہ سڑک پر اس کی جان، عزت اور آزادی محفوظ ہے،کراچی میں اگر ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا تصور مضبوط ہوتا گیا تو اس کا سب سے بڑا نقصان قانون، ریاستی اداروں اور شہری اعتماد کو ہوگا
جامعہ کراچی کے ایک سینئر استاد کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ اسی لیے فوری توجہ کا متقاضی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائیں اور یہ واضح کریں کہ کراچی میں قانون کی حکمرانی ہوگی یا طاقتور گاڑیوں اور مسلح افراد کی سڑکوں پر حکمرانی

قومی خبریں سے مزید