لاہور کی زہریلی ہوا بچوں کی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن گئی، طویل مدتی اقدامات نہ ہونے پر تشویش

لاہور کی زہریلی ہوا بچوں کی صحت کے لیے بڑا خطرہ بن گئی، طویل مدتی اقدامات نہ ہونے پر تشویش

لاہور: لاہور میں فضائی آلودگی کی مسلسل خراب صورتحال نے بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ آلودگی کم کرنے کے لیے مستقل اور مؤثر طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے
لاہور میں گزشتہ سال فضائی معیار کا اوسط اشاریہ تقریباً 170 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کئی دنوں میں یہ سطح 200 سے 300 تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں لندن میں 2024 کے دوران اوسط سطح 42 اور 2025 میں 45 رہی۔ حالیہ مثال میں لندن میں فضائی معیار کا اشاریہ 20 تھا جبکہ لاہور میں یہ 140 ریکارڈ کیا گیا
فضائی آلودگی کے اثرات بچوں کے پھیپھڑوں، دماغ اور ذہنی نشوونما پر پڑ سکتے ہیں۔ مسلسل آلودہ ہوا میں سانس لینے سے بڑوں میں دل کے امراض، بلند فشار خون، فالج، یادداشت کی بیماریوں اور سانس کے دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں بعض بچوں کو باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ بیماریوں کے باعث اسکول سے غیر حاضری بھی بڑھ رہی ہے ماہرین کے مطابق بچوں پر فضائی آلودگی کے اثرات خاص طور پر تشویشناک ہیں کیونکہ ان کے پھیپھڑے اور دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں
دوسری جانب لندن نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کم اخراج والے علاقے کا منصوبہ نافذ کیا، جس کے تحت زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر سخت پابندیاں اور جرمانے عائد کیے گئے پانچ سالہ تحقیق کے مطابق اس اقدام کے بعد لندن کے بچوں کے پھیپھڑوں کی نشوونما میں بہتری آئی اور پھیپھڑوں کی کمزور کارکردگی کا شکار بچوں کی شرح میں 5 فیصد کمی ہوئی
ایک اور تحقیق کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران لندن میں زہریلی ہوا سے منسلک اموات میں تقریباً 40 فیصد کمی ہوئی جبکہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں بھی 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں بھی کوئلے اور لکڑی سے چلنے والے حرارتی نظام کو صاف توانائی کے ذرائع سے تبدیل کرنے کے اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں نقصان دہ ذرات کے اخراج میں تقریباً 20 فیصد کمی سامنے آئی کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں 2018 کے بعد فضائی آلودگی میں تقریباً 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی نے 2035 تک نقصان دہ اخراج نصف کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے
پاکستان میں ہر سال شدید فضائی آلودگی کے دوران اسکول بند کرنے اور ہنگامی اقدامات پر توجہ دی جاتی ہے، تاہم مستقل بنیادوں پر آلودگی کم کرنے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہے ماہرین کے مطابق حکومت کے ساتھ شہریوں کو بھی آلودگی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اور پالیسیوں کے مطالبے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

لاہور: لاہور میں فضائی آلودگی کی مسلسل خراب صورتحال نے بچوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں، جبکہ آلودگی کم کرنے کے لیے مستقل اور مؤثر طویل مدتی اقدامات کی ضرورت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے
لاہور میں گزشتہ سال فضائی معیار کا اوسط اشاریہ تقریباً 170 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کئی دنوں میں یہ سطح 200 سے 300 تک پہنچ گئی۔ اس کے مقابلے میں لندن میں 2024 کے دوران اوسط سطح 42 اور 2025 میں 45 رہی۔ حالیہ مثال میں لندن میں فضائی معیار کا اشاریہ 20 تھا جبکہ لاہور میں یہ 140 ریکارڈ کیا گیا
فضائی آلودگی کے اثرات بچوں کے پھیپھڑوں، دماغ اور ذہنی نشوونما پر پڑ سکتے ہیں۔ مسلسل آلودہ ہوا میں سانس لینے سے بڑوں میں دل کے امراض، بلند فشار خون، فالج، یادداشت کی بیماریوں اور سانس کے دیگر مسائل کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاہور میں بعض بچوں کو باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کرنا پڑتا ہے جبکہ بیماریوں کے باعث اسکول سے غیر حاضری بھی بڑھ رہی ہے ماہرین کے مطابق بچوں پر فضائی آلودگی کے اثرات خاص طور پر تشویشناک ہیں کیونکہ ان کے پھیپھڑے اور دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتے ہیں
دوسری جانب لندن نے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے کم اخراج والے علاقے کا منصوبہ نافذ کیا، جس کے تحت زیادہ آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں پر سخت پابندیاں اور جرمانے عائد کیے گئے پانچ سالہ تحقیق کے مطابق اس اقدام کے بعد لندن کے بچوں کے پھیپھڑوں کی نشوونما میں بہتری آئی اور پھیپھڑوں کی کمزور کارکردگی کا شکار بچوں کی شرح میں 5 فیصد کمی ہوئی
ایک اور تحقیق کے مطابق 2019 سے 2024 کے دوران لندن میں زہریلی ہوا سے منسلک اموات میں تقریباً 40 فیصد کمی ہوئی جبکہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار میں بھی 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ میں بھی کوئلے اور لکڑی سے چلنے والے حرارتی نظام کو صاف توانائی کے ذرائع سے تبدیل کرنے کے اقدامات کیے گئے، جس کے نتیجے میں نقصان دہ ذرات کے اخراج میں تقریباً 20 فیصد کمی سامنے آئی کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں 2018 کے بعد فضائی آلودگی میں تقریباً 24 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کینیا کے دارالحکومت نیروبی نے 2035 تک نقصان دہ اخراج نصف کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے
پاکستان میں ہر سال شدید فضائی آلودگی کے دوران اسکول بند کرنے اور ہنگامی اقدامات پر توجہ دی جاتی ہے، تاہم مستقل بنیادوں پر آلودگی کم کرنے کے لیے درمیانی اور طویل مدتی منصوبوں کی ضرورت ہے ماہرین کے مطابق حکومت کے ساتھ شہریوں کو بھی آلودگی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اور پالیسیوں کے مطالبے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

قومی خبریں سے مزید