مہنگے کوئلے کی خریداری کے ذریعے بجلی صارفین سے اضافی وصولیوں کا انکشاف

مہنگے کوئلے کی خریداری کے ذریعے بجلی صارفین سے اضافی وصولیوں کا انکشاف

اسلام آباد: آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے مہنگے داموں کوئلہ خرید کر بجلی کی پیداواری لاگت بڑھانے اور اس کا اضافی بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کا انکشاف ہوا ہے
دستیاب معلومات کے مطابق بجلی پیدا کرنے والی بعض نجی کمپنیوں کی جانب سے کوئلے کی خریداری میں ایسے نرخ استعمال کیے گئے جو بجلی کی پیداواری لاگت کو غیر ضروری طور پر بڑھاتے رہے۔ اس کے نتیجے میں صارفین سے بجلی کے بلوں کے ذریعے زیادہ رقم وصول کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے
تحقیقات میں کوئلے کی درآمد اور خریداری کے طریقہ کار، اس کی قیمتوں اور بجلی کی پیداوار میں شامل اخراجات کا جائزہ لیا گیا ہے،سوال یہ اٹھایا گیا ہے کہ آیا بعض بجلی گھروں نے کوئلہ ایسے نرخوں پر خریدا جو عالمی منڈی میں دستیاب قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ تھے
مہنگے ایندھن کی خریداری کا براہ راست اثر بجلی کی پیداوار کی لاگت پر پڑتا ہے، کیونکہ پاکستان میں بجلی کے نرخوں کا ایک اہم حصہ ایندھن کی قیمت سے منسلک ہے،چنانچہ اگر بجلی پیدا کرنے والی کمپنی زیادہ قیمت پر کوئلہ خریدتی ہے تو اس کا اثر بجلی کے نرخ اور صارفین کے بلوں پر بھی پڑ سکتا ہے
یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں بجلی کے بلند نرخ پہلے ہی گھریلو صارفین، صنعت اور کاروباری شعبے کے لیے بڑا معاشی مسئلہ بنے ہوئے ہیں،مہنگی بجلی نے صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کی لاگت میں بھی اضافہ کیا ہے
حکام کی جانب سے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ایندھن کے اخراجات اور خریداری کے طریقہ کار کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ صارفین سے وصول کی جانے والی رقم میں کہاں غیر ضروری اضافہ ہوا اور اس کے ذمہ دار کون ہیں
توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نجی بجلی گھروں کی جانب سے ایندھن کی خریداری میں بے ضابطگیاں ثابت ہوتی ہیں تو اس کا مالی بوجھ صرف کمپنیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ صارفین سے اضافی وصول کی گئی رقم کی واپسی یا آئندہ بجلی کے نرخوں میں اس کی ایڈجسٹمنٹ پر بھی غور ہونا چاہیے
مہنگے کوئلے کی خریداری کا یہ معاملہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں شفافیت، ایندھن کی قیمتوں کے تعین اور بجلی کے نرخوں کے موجودہ نظام پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید