ٹرمپ انتظامیہ کا دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روکنے کا اعلان

ٹرمپ انتظامیہ کا دنیا بھر میں ویزا اپائنٹمنٹس عارضی طور پر روکنے کا اعلان

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی ویزا درخواست گزاروں کے لیے ویزا اپائنٹمنٹس کے عمل میں عارضی وقفہ کر دیا ہے،یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی دوسری مدت میں امیگریشن کے خلاف سخت ترین کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ دنیا بھر میں موجود تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں عملے کے لیے ایک عالمی تربیتی پروگرام شروع کیا گیا ہے،ترجمان کے مطابق ویزا خدمات کی اپائنٹمنٹس کو اس تربیتی پروگرام کے لیے درکار وقت کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا
انتظامیہ کی جانب سے ویزا اپائنٹمنٹس میں یہ تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب صدر ٹرمپ نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کر رکھی ہے،اس مہم کے دوران متعدد افراد کے ویزے اور گرین کارڈ منسوخ کیے گئے ہیں جبکہ مختلف وجوہات کی بنیاد پر ویزا اور امیگریشن درخواستیں مسترد بھی کی جا رہی ہیں
امریکی حکومت کی امیگریشن پالیسی کا دائرہ صرف غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ بعض ایسے افراد بھی انتظامیہ کی کارروائیوں کی زد میں آئے ہیں جن پر سیاسی سرگرمیوں یا بعض سیاسی خیالات کا اظہار کرنے کا الزام ہے،غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف فلسطین کے حامی مظاہروں میں شرکت بھی بعض معاملات میں امیگریشن فیصلوں کے لیے زیرِ غور آنے والی وجوہات میں شامل رہی ہے
ٹرمپ انتظامیہ نے اس پالیسی کو قومی سلامتی اور امیگریشن قوانین کے نفاذ سے جوڑا ہے، تاہم سخت کریک ڈاؤن کو مختلف قانونی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے اور بعض معاملات میں عدالتوں نے انتظامیہ کے اقدامات کو محدود کیا ہے
دنیا بھر میں ویزا خدمات متاثر ہونے کے باعث امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے ویزا انٹرویوز کے منتظر درخواست گزاروں کو اپنے طے شدہ شیڈول میں تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ سفارتی عملے کی تربیت کے باعث ویزا خدمات کی اپائنٹمنٹس کو نئے شیڈول کے مطابق ترتیب دیا جائے گا

قومی خبریں سے مزید