مصنوعی ذہانت کی دوڑ کا بوجھ امریکی عوام پر پڑ سکتا ہے، گولڈمین ساکس کا انتباہ
مصنوعی ذہانت کے انقلاب سے جہاں دنیا بھر میں معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور پیداوار میں اضافے کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں، وہیں معروف مالیاتی ادارے گولڈمین ساکس نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا مالی بوجھ امریکی صارفین کو بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا میں مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں اب تک مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ بعض شعبوں میں قیمتوں کا دباؤ کم ہونے کے بعد دوسرے شعبوں میں نئی مشکلات سامنے آ رہی ہیں، جس سے مہنگائی ایک مسلسل چیلنج بنی ہوئی ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے پسندیدہ مہنگائی پیمانے کے مطابق مئی میں قیمتوں میں اضافے کی شرح چار اعشاریہ ایک فیصد تک پہنچ گئی، جو فروری میں دو اعشاریہ نو فیصد تھی، جبکہ بنیادی مہنگائی بھی مرکزی بینک کے مقررہ ہدف سے مسلسل بلند رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت کو معیشت کے لیے ایک بڑے حل کے طور پر دیکھا تھا۔ بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ یہ ٹیکنالوجی کاروبار کو زیادہ تیز، مؤثر اور کم خرچ بنا دے گی، خاص طور پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کامیابیوں نے ان توقعات کو مزید بڑھایا۔
لیکن گولڈمین ساکس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کے لیے درکار بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت، مراکز قائم کرنے کے اخراجات اور جدید بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا خرچ بالآخر صارفین اور معیشت کے مختلف حصوں پر منتقل ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت طویل مدت میں پیداوار اور معاشی کارکردگی میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اس کے ابتدائی مرحلے میں بھاری سرمایہ کاری، روزگار کے ڈھانچے میں تبدیلی اور اخراجات کا دباؤ ایک نیا معاشی چیلنج پیدا کر سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے انقلاب کے بارے میں اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ یہ دنیا کو بدلے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس تبدیلی کی قیمت کون ادا کرے گا اور اس کے فوائد کس حد تک عام لوگوں تک پہنچ سکیں گے





