سابق ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو سفارتی پاسپورٹ دینے کی تجویز پر شدید تنقید، سوشل میڈیا پر غم و غصہ
اسلام آباد — سابق ارکان پارلیمنٹ کے ۲۸ سال سے کم عمر بچوں کو نیلے پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز پر سیاسی رہنماؤں، صحافیوں اور ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مراعاتی سیاست کی ایک نئی مثال قرار دیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کی جانب سے جمعہ کو ایک ایسے بل کی منظوری کے بعد یہ معاملہ عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے جس کے تحت سابق اراکین پارلیمنٹ کے زیر کفالت بچوں کو نیلے پاسپورٹ کی سہولت دینے کی تجویز شامل ہے۔
مجوزہ قانون منظور ہونے کی صورت میں سابق ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو وہی سہولت حاصل ہو جائے گی جو اس وقت ریٹائرڈ گریڈ ۲۲ کے سرکاری افسران کے زیر کفالت بچوں کو حاصل ہے۔
اس تجویز پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں متعدد افراد نے سوال اٹھایا کہ عوامی نمائندگی کرنے والے سابق سیاست دانوں کے خاندانوں کو ایسی خصوصی سہولت دینے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
کئی صحافیوں، سیاسی کارکنوں اور تجزیہ کاروں نے اسے عام شہریوں اور حکمران طبقے کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی علامت قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے ’’شرمناک‘‘ اقدام قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے اس معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس بل کی حمایت نہیں کرتے اور جب یہ سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ و انسداد منشیات کو بھی آگاہ کیا تھا کہ اس معاملے پر پہلے وفاقی کابینہ اور متعلقہ اداروں سے مشاورت ہونی چاہیے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کے تحفظات کے باوجود سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بل کو منظور کر لیا۔
مجوزہ قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر اعلیٰ سرکاری افسران کے بچوں کو یہ سہولت حاصل ہے تو سابق ارکان پارلیمنٹ کے بچوں کو بھی یہ حق دیا جانا چاہیے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ پارلیمانی عہدہ عوامی خدمت ہے، اسے مستقل مراعات کے نظام میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
سیاسی حلقوں میں اب یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ بل پارلیمان سے منظور ہو کر قانون بنتا ہے یا عوامی دباؤ کے باعث اس پر نظرثانی کی جاتی ہے





