امریکا کے میڈیکل ریزیڈنسی پروگرام میں پاکستانی ڈاکٹروں کی کامیابی، ایک ہزار چار سو سے زائد گریجویٹس کو مواقع مل گئے
اسلام آباد :پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے کہا ہے کہ رواں سال ایک ہزار چار سو سے زائد پاکستانی میڈیکل گریجویٹس نے امریکا کے میڈیکل ریزیڈنسی پروگرام میں جگہ حاصل کی ہے، جو پاکستانی طبی تعلیم کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت کی علامت ہے۔
کونسل کے مطابق پاکستانی ڈاکٹروں کی بین الاقوامی لائسنسنگ امتحانات اور خصوصاً امریکا کے رہائشی تربیتی نظام میں کامیابی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان میں طبی تعلیم کے معیار، نصاب میں بہتری اور جدید تعلیمی پالیسیوں کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹروں کا عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنا محنت، صلاحیت اور طبی تعلیم کے نظام میں مسلسل بہتری کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستانی ڈاکٹروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو امریکا میں اعلیٰ طبی تربیت کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ رجحان پاکستانی ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی تیاری، اعتماد اور عالمی مسابقت کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈاکٹر رضوان تاج نے کہا کہ ماضی میں امریکا کے طبی تربیتی پروگراموں میں بڑی تعداد میں امیدوار بھارت سمیت دیگر ممالک سے آتے تھے، لیکن اب پاکستانی ڈاکٹروں کی نمائندگی اور کامیابی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے عالمی طبی برادری میں ان کی پہچان مضبوط ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے گزشتہ برسوں میں طبی تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔ اس میں معیار کو یقینی بنانا، قابلیت پر مبنی تعلیم، عملی طبی تربیت میں بہتری اور عالمی معیار کے مطابق نصاب کی تشکیل شامل ہے۔
امریکا کا طبی رہائشی تربیتی نظام دنیا کے سب سے زیادہ مسابقتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جہاں دنیا بھر سے میڈیکل گریجویٹس شرکت کرتے ہیں۔ کامیابی حاصل کرنے والے ڈاکٹروں کو مختلف شعبوں میں مزید تربیت دی جاتی ہے، جس کے بعد وہ امریکا میں طب کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے اہل ہو جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستانی ڈاکٹروں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی موجودگی نہ صرف ملک کے طبی تعلیمی نظام کے لیے مثبت پیش رفت ہے بلکہ بیرون ملک پاکستانی ماہرین کی بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ شناخت کی بھی عکاسی کرتی ہے





