نظر انداز کیے گئے حصص اگلے چھ ماہ میں بڑی واپسی دے سکتے ہیں، ماہرین کی سرمایہ کاروں کو نئی حکمت عملی
نیویارک — امریکی حصص بازار میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ بڑی کمپنیوں کی غیر معمولی کامیابی کے بعد اب بعض مالیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ وہ شعبے جنہوں نے حالیہ عرصے میں کمزور کارکردگی دکھائی ہے، آنے والے چھ ماہ میں سرمایہ کاروں کے لیے نمایاں منافع کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری کے ادارے ای ٹی ایف ایکشن کے شریک بانی مائیک ایکنز نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی توجہ ان شعبوں کی طرف بھی مرکوز کریں جو مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے مقابلے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
ان کے مطابق سافٹ ویئر اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ سے وابستہ کئی کمپنیاں حالیہ عرصے میں اپنی بلند قیمتوں سے نیچے آئی ہیں، لیکن ان کے بنیادی کاروباری امکانات اب بھی مضبوط ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں میں مستقبل کی ترقی کے واضح امکانات موجود ہیں کیونکہ دنیا کے روزمرہ کاروباری نظام اب بھی سافٹ ویئر پر انحصار کرتے ہیں۔
مائیک ایکنز نے مالیاتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کو صرف ان کمپنیوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے جنہوں نے مصنوعی ذہانت کی وجہ سے حالیہ برسوں میں غیر معمولی ترقی حاصل کی ہے، بلکہ انہیں ان شعبوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے جہاں قیمتیں دباؤ کا شکار رہی ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر ایسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نشاندہی کی جو نئی تبدیلیاں لانے والی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ شعبہ اگلے چھ ماہ میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ دور میں بڑی سرمایہ کاری زیادہ تر چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سیمی کنڈکٹر بنانے والی کمپنیوں تک محدود رہی، جبکہ درمیانے اور چھوٹے حجم کی کئی کمپنیاں سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل نہ کر سکیں۔
ایکنز کا کہنا ہے کہ یہی نظر انداز کی جانے والی کمپنیاں مستقبل میں بہتر نتائج دے سکتی ہیں، خاص طور پر اگر ان کی آمدنی میں اضافے کے امکانات مضبوط رہیں۔ ان کے مطابق تجزیہ کاروں کے اندازے ان کمپنیوں کے لیے ایک مثبت منظرنامہ پیش کر رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کی دوڑ نے گزشتہ عرصے میں چند بڑی کمپنیوں کے حصص کو بہت اوپر پہنچا دیا، لیکن اس کے نتیجے میں بازار کے کچھ دوسرے حصے نسبتاً پیچھے رہ گئے۔ سرمایہ کاری کے ماہرین اب اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا سرمایہ کاری کا رجحان دوبارہ وسیع پیمانے پر تقسیم ہو سکتا ہے۔
تاہم مالیاتی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ہر کمزور کارکردگی دکھانے والا حصص لازماً مستقبل میں کامیاب نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاروں کو کمپنی کے مالی نتائج، قرض، انتظامی صلاحیت اور صنعت کے مستقبل کا مکمل جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے۔
مجموعی طور پر وال اسٹریٹ میں ایک نئی بحث جاری ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کی چند بڑی کمپنیوں کے بعد اب سرمایہ کاری کے مواقع ان شعبوں میں منتقل ہوں گے جو طویل عرصے سے پس منظر میں چلے گئے تھے۔ اگر یہ رجحان مضبوط ہوتا ہے تو نظر انداز کیے گئے ٹیکنالوجی شعبے اگلے چھ ماہ میں سرمایہ کاروں کے لیے حیران کن نتائج لا سکتے ہیں





