دماغی ٹیکنالوجی کی نئی دوڑ، چین کی کمپنی نے بغیر سرجری کے انسانی ذہانت بڑھانے کا راستہ تلاش کرنے کا دعویٰ کر دیا

دماغی ٹیکنالوجی کی نئی دوڑ، چین کی کمپنی نے بغیر سرجری کے انسانی ذہانت بڑھانے کا راستہ تلاش کرنے کا دعویٰ کر دیا

ہانگژو، چین — دنیا بھر میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں انسانی دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرنے والی نئی نسل کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں۔ ایک طرف ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک دماغ میں نصب کیے جانے والے آلات کے ذریعے اس شعبے میں آگے بڑھ رہی ہے، جبکہ چین کی ایک کمپنی بغیر آپریشن کے پہننے والے آلات کے ذریعے دماغی ٹیکنالوجی کو عام صارفین تک پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

دماغ اور کمپیوٹر کے درمیان رابطے کی اس ٹیکنالوجی کو عام طور پر دماغی کمپیوٹر رابطہ نظام کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد انسانی دماغ کے سگنلز کو سمجھنا اور انہیں کمپیوٹر یا دیگر آلات کے ساتھ جوڑنا ہے۔

امریکا کی نیورالنک، جسے ایلون مسک نے قائم کیا، دماغ میں باریک آلات نصب کرنے کے طریقے پر کام کر رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد ایسے افراد کی مدد کرنا ہے جو جسمانی معذوری کے باعث حرکت یا رابطے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

تاہم چین کی کمپنی برین کو کا مؤقف ہے کہ مستقبل کی دماغی ٹیکنالوجی کے لیے ہر بار دماغ میں جراحی کے ذریعے آلہ نصب کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ کمپنی ایسے پہننے والے آلات تیار کر رہی ہے جو سر پر لگائے جا سکتے ہیں اور دماغی سرگرمیوں کو بغیر کسی آپریشن کے پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہانگژو میں قائم یہ کمپنی چین کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت بیجنگ دماغی تحقیق، عصبی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے جڑے شعبوں میں اپنی صلاحیت بڑھانا چاہتا ہے۔ چین نے اس شعبے میں قومی پالیسی، تحقیقی اداروں، اسپتالوں اور نجی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق دماغی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا موجودہ استعمال طبی شعبے میں ہے، جہاں یہ فالج، اعصابی بیماریوں اور جسمانی معذوری کا شکار افراد کے لیے نئی امید پیدا کر رہی ہے۔

تاہم انسانی صلاحیتوں کو علاج سے آگے بڑھانے، مثلاً یادداشت، توجہ یا ذہنی کارکردگی میں اضافہ کرنے والی ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے وسیع پیمانے پر استعمال کے لیے کئی سال درکار ہو سکتے ہیں۔

اس شعبے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا مستقبل کی دماغی ٹیکنالوجی چند مخصوص مریضوں تک محدود رہے گی یا عام انسان بھی اسے روزمرہ زندگی میں استعمال کر سکیں گے۔

نیورالنک کے ناقدین جراحی کے خطرات، رازداری اور اخلاقی مسائل پر سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ بغیر جراحی کے آلات بنانے والی کمپنیاں یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ دماغی ٹیکنالوجی کو زیادہ محفوظ اور آسان طریقے سے عام کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والی دہائی میں امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے ساتھ ساتھ دماغی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ یہ شعبہ صرف طبی ترقی تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں انسانی زندگی، کام کرنے کے انداز اور انسان و مشین کے تعلق کو بھی تبدیل کر سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید