ایکسچینج کمپنیوں نے مالی سال 2026 میں بینکوں کو 6 ارب ڈالر فروخت کیے
پاکستان کی ایکسچینج کمپنیوں نے گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 6 ارب ڈالر بینکوں کو فروخت کیے، جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی نظام کو سہارا ملا۔
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 میں ایکسچینج کمپنیوں کے ذریعے آنے والی رقوم کا حجم تقریباً 5 سے 6 ارب ڈالر رہا۔
انہوں نے کہا کہ اوسطاً ایکسچینج کمپنیاں ہر ماہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر بینکوں کو فروخت کرتی رہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کو ترسیلاتِ زر کی مد میں ریکارڈ 41 ارب 60 کروڑ ڈالر موصول ہوئے، جس سے معیشت کو غیر ملکی کرنسی کے حصول میں نمایاں مدد ملی۔
تاہم دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی سال 2026 کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر کم از کم پانچ ایکسچینج کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے لائسنس منسوخ یا کاروباری سرگرمیاں بند کر دیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ایکسچینج کمپنی نے حال ہی میں اپنا کاروباری لائسنس بھی واپس کر دیا ہے۔
ایک کرنسی ڈیلر نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے سخت نگرانی اور اضافی ضابطوں کے باعث ایکسچینج کمپنیوں کے لیے کاروبار جاری رکھنا اور منافع کمانا مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے مزید کچھ کمپنیاں بھی اپنا کاروبار بند کرنے پر غور کر رہی ہیں، تاہم انہوں نے ان کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے جو لائسنس واپس کرنے کا سوچ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک طرف ایکسچینج کمپنیاں غیر ملکی کرنسی کی ترسیل اور بینکاری نظام کو سہارا دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف غیر قانونی کرنسی تجارت اور مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی بھی ضروری سمجھی جاتی ہے





