ایران میں جنگ کی واپسی، اسرائیل اور امریکہ کے حملوں نے خطے میں نئی کشیدگی پیدا کر دی
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے ایک مضمون کے مطابق ایران ایک بار پھر جنگی حالات کا سامنا کر رہا ہے، جہاں اسرائیل اور امریکہ کی فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اندر ہونے والے حالیہ حملوں نے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک طویل اور خطرناک تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کی فوجی صلاحیتوں اور اپنے لیے ممکنہ خطرات کو روکنے کے لیے کارروائیاں کر رہا ہے، جبکہ ایران ان حملوں کو اپنی خودمختاری کے خلاف جارحیت قرار دیتا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے تجزیے کے مطابق امریکی شمولیت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ واشنگٹن ایک طرف اپنے اتحادی اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے اور دوسری طرف ایک بڑے علاقائی تصادم سے بچنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔
مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ایران کے لیے یہ صورتحال کئی محاذوں پر دباؤ کا باعث ہے۔ ایک طرف اسے بیرونی حملوں کا سامنا ہے، جبکہ دوسری طرف داخلی معیشت، سیاسی دباؤ اور عالمی تنہائی جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق خطے میں کسی بھی بڑی فوجی کارروائی کے نتیجے میں خلیج، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سفارت کاری پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں





