ہنٹر بائیڈن نے ایران سے رشوت لینے کے الزام پر ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا، سابق اوور اسٹاک سربراہ پر 17 لاکھ ڈالر جرمانہ
ایک امریکی وفاقی جج نے سابق صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں 17 لاکھ ڈالر ہرجانے کی رقم دلوائی ہے۔ یہ مقدمہ سابق اوور اسٹاک ڈاٹ کام کے سربراہ پیٹرک برن کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔
ہنٹر بائیڈن نے 2023 میں پیٹرک برن کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ برن نے ایک انٹرویو میں جھوٹا دعویٰ کیا کہ ہنٹر بائیڈن نے 2021 میں ایران کی حکومت سے رشوت طلب کی تھی تاکہ وہ اپنے والد، اس وقت کے صدر جو بائیڈن، پر اثر انداز ہو کر ایران کے منجمد کیے گئے تقریباً 8 ارب ڈالر کے اثاثے آزاد کروا سکے۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ برن کے یہ الزامات ہتک عزت کے زمرے میں آتے ہیں۔ جج نے ہنٹر بائیڈن کے حق میں جرمانے کی رقم بطور تادیبی ہرجانہ مقرر کی، جس کا مقصد صرف نقصان کی تلافی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے رویے کی حوصلہ شکنی بھی ہوتا ہے۔
پیٹرک برن سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی رہے ہیں۔ وہ 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو چیلنج کرنے والی کوششوں سے بھی وابستہ رہے تھے۔ انہوں نے ہنٹر بائیڈن کے مقدمے میں عائد الزامات سے اختلاف کیا تھا۔
یہ مقدمہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی سیاست میں بائیڈن خاندان اور ٹرمپ کے اتحادیوں کے درمیان الزامات اور قانونی جنگیں مسلسل موضوع بحث بنی ہوئی ہیں۔ ہنٹر بائیڈن پہلے بھی مختلف قانونی معاملات کا سامنا کر چکے ہیں، جبکہ ان کے خلاف سیاسی الزامات کا بڑا حصہ امریکی انتخابی کشمکش کا حصہ بھی رہا ہے





