امریکی محکمہ انصاف نے ایئر فورس ون کی رپورٹنگ پر نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کو طلب کر لیا

امریکی محکمہ انصاف نے ایئر فورس ون کی رپورٹنگ پر نیویارک ٹائمز کے صحافیوں کو طلب کر لیا

امریکی محکمۂ انصاف نے دی نیویارک ٹائمز کے متعدد صحافیوں کو طلبی کے نوٹس جاری کیے ہیں تاکہ وہ ایک گرینڈ جیوری کے سامنے آئندہ ہفتے گواہی دیں۔ معاملہ اخبار کی اس رپورٹنگ سے متعلق ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے قطر کی جانب سے فراہم کیے جانے والے نئے صدارتی طیارے، یعنی ایئر فورس ون، کے معاملے کی تفصیلات شائع کی گئی تھیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق وفاقی ایجنٹوں نے بعض صحافیوں کے گھروں کے دروازوں پر جا کر انہیں طلبی کے احکامات پہنچائے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صحافتی آزادی اور ذرائع کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق محکمہ انصاف یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ اخبار کو اس حساس معاملے سے متعلق معلومات کیسے حاصل ہوئیں اور آیا کسی سرکاری ذریعے نے خفیہ معلومات فراہم کیں یا نہیں۔ صحافتی ادارے عام طور پر اپنے ذرائع کے تحفظ کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں۔

یہ تنازع اس وقت سامنے آیا ہے جب قطر کی جانب سے صدر ٹرمپ کو ایک لگژری طرز کا بوئنگ طیارہ فراہم کرنے کی پیشکش پر سیاسی اور قانونی بحث جاری ہے۔ ناقدین نے اس تحفے کے اخلاقی، آئینی اور سکیورٹی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے امریکی حکومت کے اخراجات کم ہو سکتے ہیں۔

امریکی تاریخ میں محکمہ انصاف کی جانب سے صحافیوں کو ذرائع کے بارے میں معلومات دینے پر مجبور کرنے کی کوششیں ہمیشہ متنازع رہی ہیں۔ صحافتی تنظیمیں خبردار کرتی رہی ہیں کہ ایسے اقدامات سے تحقیقاتی صحافت متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ سرکاری اداروں کے خلاف رپورٹنگ کرنے والے ذرائع خوف کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ معاملہ آزادی صحافت اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کی ایک نئی آزمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے

قومی خبریں سے مزید