پی آئی اے کے نئے سربراہ، 30 سالہ عالمی تجربہ رکھنے والے ایڈرین ہیملٹن مینز نے عہدہ سنبھال لیا
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے ایوی ایشن انڈسٹری کے تجربہ کار ماہر ایڈرین ہیملٹن مینز کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کردیا ہے انہوں نے پیر 2 نومبر کو باضابطہ طور پر اپنے عہدے کی ذمہ داریاں سنبھال لیں نئے سربراہ کو ایسے وقت میں پی آئی اے کی قیادت سونپی گئی ہے جب ایئرلائن نجکاری کے بعد نئے انتظامی دور میں داخل ہوچکی ہے اور اس کی مالی حالت بہتر بنانے، طیاروں کے بیڑے میں اضافہ کرنے اور بین الاقوامی پروازوں کو وسعت دینے کی کوششیں جاری ہیں
پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے پیر کو ان کی تقرری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایڈرین ہیملٹن مینز کو عالمی ہوا بازی کی صنعت میں قیادت اور انتظامی حکمت عملی کا وسیع تجربہ حاصل ہے وہ 30 سال سے زیادہ عرصے سے اس شعبے سے وابستہ ہیں اور 3 مختلف ایئرلائنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں
پی آئی اے کے مطابق انہیں دنیا بھر میں خسارے کا شکار ایئرلائنز کی بحالی، انتظامی اصلاحات اور کاروباری کارکردگی بہتر بنانے کے ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے بورڈ کو توقع ہے کہ ان کی قیادت میں پی آئی اے کی سروس کا معیار بہتر ہوگا، انتظامی اخراجات پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور ایئرلائن کو مستقل منافع بخش ادارہ بنانے کی کوششوں میں تیزی آئے گی
ایڈرین ہیملٹن مینز اس سے قبل عمان کی کم لاگت والی ایئرلائن سلام ایئر کے سربراہ رہ چکے ہیں انہوں نے قازقستان کی ایئرلائن فلائی آریستان کے صدر اور چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی کام کیا، جبکہ افریقی فضائی کمپنی فلائی افریقہ کے بانی چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں
ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں ساؤتھ افریقن ایئرویز، ورجن آسٹریلیا، انڈونیشیا کی منڈالا ایئرلائنز اور بھارت کی انڈیگو میں اہم انتظامی اور تجارتی عہدے بھی شامل ہیں انہوں نے اپنے فضائی سفر کا پیشہ ورانہ آغاز 1997 میں ایئر نیوزی لینڈ سے کیا تھا۔
نئے سربراہ نے ایئر وائس مارشل عامر حیات کی جگہ لی ہے، جو تقریباً ساڑھے 4 سال تک پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو رہے پی آئی اے کے بورڈ نے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل حالات میں ایئرلائن کی قیادت کی، انتظامی اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات شروع کیں، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے اور نجکاری کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا
بورڈ کے مطابق عامر حیات کی قیادت میں ایئرلائن کو کئی اہم انتظامی اور صنعتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کی کوششوں سے مستقبل کی نجکاری اور تجارتی بحالی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں مدد ملی
پی آئی اے کی نجکاری گزشتہ سال دسمبر میں مکمل ہوئی تھی، جب عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے ایئرلائن کے 75 فیصد حصص کے لیے 135 ارب روپے کی کامیاب بولی دی اس کنسورشیم نے رواں سال جون میں ایئرلائن کا انتظام سنبھالا تھا۔ نئے مالکان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پی آئی اے کی تنظیم نو، طیاروں کے بیڑے میں توسیع، پروازوں کے نظام میں بہتری اور مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنے پر توجہ دیں گے
نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی آئی اے نے اپنے طیاروں کے بیڑے میں جدید بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر بھی شامل کیا ہے یہ طیارہ لیز پر حاصل کیا گیا ہے اور 2 نومبر کو لندن سے اسلام آباد پہنچا پی آئی اے کے مطابق وہ بوئنگ 787-9 طیارہ اپنے بیڑے میں شامل کرنے والی پاکستان کی پہلی ایئرلائن بن گئی ہے کمپنی نے مزید ایسے طیارے حاصل کرنے اور طویل فاصلے کی بین الاقوامی پروازوں کو وسعت دینے کا منصوبہ بھی بنایا ہے
پی آئی اے ماضی میں ایشیا کی نمایاں ایئرلائنز میں شمار ہوتی تھی، لیکن طویل عرصے تک سیاسی مداخلت، ناقص انتظامی فیصلوں، قرضوں، اضافی اخراجات اور آپریشنل مسائل نے اس کی ساکھ اور مالی حالت کو نقصان پہنچایا۔ 2020 میں پائلٹس کے لائسنسوں سے متعلق تنازع کے بعد یورپ اور برطانیہ سمیت اہم فضائی منڈیوں میں پابندیوں نے بھی اس کی مشکلات بڑھا دی تھیں بعد ازاں یورپی یونین اور برطانیہ کی جانب سے پابندیاں ختم ہونے کے بعد بین الاقوامی آپریشنز کی بحالی کا راستہ کھلا
اب نئے چیف ایگزیکٹو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج پی آئی اے کو محض انتظامی تبدیلیوں تک محدود رکھنے کے بجائے ایک قابل اعتماد، منافع بخش اور عالمی معیار کی ایئرلائن بنانا ہے اس مقصد کے لیے طیاروں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ان کی بروقت دیکھ بھال، پروازوں کی پابندی، مسافروں کی سہولت، اخراجات میں کمی اور بین الاقوامی روٹس پر مسابقت بہتر بنانا ضروری ہوگا
پی آئی اے کی نئی انتظامیہ کے لیے یہ تقرری ایک اہم امتحان ہے کہ آیا عالمی ہوا بازی کا 30 سالہ تجربہ رکھنے والا نیا سربراہ قومی ایئرلائن کو اس کے ماضی کے عروج کی جانب واپس لے جانے میں کامیاب ہوسکے گا یا نہیں




