Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

7 ماہ بعد عمران خان سے ملاقات، بشریٰ بی بی سے بھی 11 ماہ بعد وکیل کی رسائی،

7 ماہ بعد عمران خان سے ملاقات، بشریٰ بی بی سے بھی 11 ماہ بعد وکیل کی رسائی،

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے ملاقات کی ہے یہ ملاقات 40 منٹ جاری رہی۔ سلمان صفدر کے مطابق انہوں نے تقریباً 7 ماہ بعد عمران خان اور 11 ماہ بعد بشریٰ بی بی سے ملاقات کی ہے طویل عرصے سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کے بعد ہونے والی اس ملاقات میں دونوں نے اپنی صحت، جیل میں رہنے کے حالات اور مختلف مقدمات کے بارے میں وکیل کو آگاہ کیا
بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں بتایا کہ اڈیالہ جیل کے حکام نے شام تقریباً 4 بج کر 30 منٹ پر ملاقات کا انتظام کیا انہوں نے کہا کہ بار بار درخواستیں دینے اور کوششوں کے بعد انہیں عمران خان سے 7 ماہ اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد ملاقات کا موقع ملا
ان کے مطابق ملاقات کا دورانیہ صرف 40 منٹ تھا، جو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف زیر سماعت تمام مقدمات اور قانونی معاملات پر تفصیلی گفتگو کے لیے ناکافی تھا دونوں نے اپنی صحت اور جیل میں رہنے کے حالات سے آگاہ کیا اور بعض مقدمات کے حوالے سے نئی قانونی ہدایات بھی دیں
پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بتایا کہ سلمان صفدر نے انہیں ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کیا ان کے مطابق ملاقات میں سیاسی معاملات پر گفتگو نہیں ہوئی بلکہ قانونی مقدمات، آئندہ حکمت عملی اور دیگر عدالتی کارروائیوں پر بات چیت کی گئی
اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی عمران خان کو ہفتے میں 2 مرتبہ، منگل اور جمعرات کے روز اہل خانہ، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد سے ملاقات کی اجازت دے چکی ہے تاہم پی ٹی آئی اور عمران خان کے اہل خانہ کا مؤقف رہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود گزشتہ کئی ماہ سے ملاقاتوں پر پابندیاں برقرار ہیں
بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان سے آخری عوامی طور پر رپورٹ ہونے والی ملاقات 8 اپریل کو ہوئی تھی، جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکام کو ملاقات کا انتظام کرنے کی ہدایت دی تھی اس سے قبل فروری میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر بھی ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی، جس میں سابق وزیراعظم کی صحت کے حوالے سے خدشات سامنے آئے تھے
عمران خان کی دائیں آنکھ کی بیماری، جسے مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن کہا جاتا ہے، جنوری کے آخر میں سامنے آئی تھی بعد ازاں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ان کی آنکھ کا علاج اور طبی عمل کیا گیا ان کے اہل خانہ کا مطالبہ ہے کہ انہیں ان کی پسند کے اسپتال منتقل کیا جائے اور ان کے ذاتی معالجین کو بھی طبی معائنے کی اجازت دی جائے حکومت ان کے علاج میں غفلت اور طبی سہولتیں فراہم نہ کرنے کے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے
عمران خان 5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں انہیں توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی گئی تھی، جبکہ القادر ٹرسٹ کے 190 ملین پاؤنڈ کے مقدمے میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 14، 14 سال قید کی سزا بھی سنائی جاچکی ہے دسمبر 2025 میں ایک اور توشہ خانہ مقدمے میں بھی دونوں کو سزائیں دی گئیں عمران خان کو 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق دہشت گردی کے مقدمات کا بھی سامنا ہے
عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں نے اڈیالہ جیل کے باہر متعدد مرتبہ احتجاجی دھرنے دیے اور ان کی رہائی، صحت کے بہتر انتظامات اور اہل خانہ و وکلا سے ملاقاتوں کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا تاہم ستمبر کے آخر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت گرفتاریوں کے بعد یہ احتجاج بھی متاثر ہوا
بیرسٹر سلمان صفدر کی حالیہ ملاقات کو اس لیے اہم قرار دیا جارہا ہے کہ طویل عرصے بعد عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اپنے وکیل کے ذریعے قانونی معاملات پر نئی ہدایات دینے کا موقع ملا ہے تاہم صرف 40 منٹ کی ملاقات میں تمام مقدمات پر بات نہ ہوسکنے کے باعث پی ٹی آئی کے قانونی مسائل اور جیل میں ملاقاتوں کی پابندیوں کا معاملہ بدستور اہمیت رکھتا ہے

قومی خبریں سے مزید