Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی پیشکش کردی

پاکستان نے وسطی ایشیائی ممالک کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کے لیے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی پیشکش کردی

پاکستان نے وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لیے کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں کو اہم تجارتی راستوں کے طور پر پیش کردیا ہے وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع اور بندرگاہوں کی بدولت وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک اہم تجارتی اور راہداری مرکز بن سکتا ہے
انہوں نے یہ بات قازقستان کے شہر الماتی میں منعقد ہونے والے وسطی ایشیا میں اقتصادی تعاون اور معیاری سرمایہ کاری کے دوسرے تیان شان فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس فورم میں وسطی ایشیائی ممالک کے حکومتی نمائندے، سرمایہ کار، مالیاتی ادارے، کاروباری شخصیات اور ماہرین شرکت کر رہے ہیں
قیصر احمد شیخ نے پاکستان کی 3 بڑی سمندری بندرگاہوں کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کو خطے کی تجارت کے لیے اہم دروازے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بندرگاہیں وسطی ایشیائی ممالک کو سمندری تجارتی راستوں اور عالمی منڈیوں تک متبادل رسائی فراہم کرسکتی ہیں اس سے علاقائی تجارت میں اضافہ، نقل و حمل کے روابط مضبوط اور اشیا کی ترسیل کے اخراجات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے
وفاقی وزیر نے کراچی کی صنعتی اور تجارتی اہمیت پر خصوصی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر میں پہلے سے موجود صنعتی ڈھانچہ، کاروباری سہولتیں، مالیاتی ادارے اور بندرگاہی نظام غیر ملکی سرمایہ کاری اور صنعتی شراکت داری کے وسیع مواقع فراہم کرتے ہیں انہوں نے گوادر بندرگاہ کو بھی علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیا
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی رابطوں کا مقصد صرف سڑکوں، بندرگاہوں اور منڈیوں کو ایک دوسرے سے ملانا نہیں بلکہ مختلف معیشتوں کو قریب لانا، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا، روزگار فراہم کرنا اور پورے خطے میں مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینا بھی ہے
قیصر احمد شیخ نے علاقائی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں توانائی، بنیادی ڈھانچے، ترسیل و نقل و حمل، صنعتی پیداوار، لاجسٹکس اور تجارت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی انہوں نے کہا کہ خطے کی اقتصادی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر تجارتی رابطوں کے ساتھ قابل اعتماد توانائی کی فراہمی بھی ضروری ہے
انہوں نے وسطی ایشیا کے علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام کی خدمات کو بھی سراہا، جو رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط، نقل و حمل اور اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے لیے کام کررہا ہے ان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری مضبوط بنانے کا اہم ذریعہ ہے
فورم کے ایجنڈے میں بتایا گیا کہ 2026 میں خطے کو بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی تجارتی راستوں میں رکاوٹوں جیسے مسائل کا سامنا ہے اس کے علاوہ مختلف ممالک کے درمیان کسٹمز کے طریقہ کار میں فرق، ڈیجیٹل سہولتوں کی کمی، سرحدی کارروائیوں میں تاخیر اور نقل و حمل کے ناکافی انتظامات بھی تجارت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں ہیں
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے لیے سڑکوں، ریلوے، سرحدی گزرگاہوں، گوداموں اور ڈیجیٹل نظام کو جدید بنانا ضروری ہے مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز اور ڈیجیٹل خدمات بھی مستقبل کی علاقائی تجارت میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں
دوسرا تیان شان فورم 3 نومبر کو اختتام پذیر ہوگا اس کا بنیادی مقصد وسطی ایشیا میں پائیدار سرمایہ کاری، قابل اعتماد تجارتی راستوں اور علاقائی اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے
پاکستان کے لیے یہ پیشکش اقتصادی اعتبار سے انتہائی اہمیت رکھتی ہے وسطی ایشیا کے ممالک سمندر تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے اور انہیں عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے دوسرے ممالک کے راستوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے اگر پاکستان افغانستان اور دیگر علاقائی ممالک کے ذریعے قابل اعتماد سڑکوں اور ریلوے رابطوں کو بہتر بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہیں ان ممالک کی درآمدات اور برآمدات کے لیے اہم راستہ بن سکتی ہیں
اس سے پاکستان کو بندرگاہی آمدنی، ٹرانزٹ فیس، ٹرانسپورٹ، گوداموں، صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع حاصل ہوسکتے ہیں تاہم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے افغانستان کے راستے محفوظ تجارتی آمدورفت، بہتر سرحدی انتظامات، جدید ریلوے نظام اور بندرگاہوں کی مکمل عملی استعداد کو یقینی بنانا ضروری ہوگا

قومی خبریں سے مزید