فلاحی ریاست کا دور ختم، عوامی سہولتیں سرمایہ دارانہ نظام کی نذر ہونے لگیں
دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی دنیا میں فلاحی ریاست کا تصور ایک بڑی سماجی کامیابی سمجھا جاتا تھا اس نظام کے تحت حکومتیں شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی، بجلی اور روزگار جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی ذمہ داری قبول کرتی تھیں لیکن اب سرکاری اخراجات میں کمی، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور نجی سرمایہ دارانہ مفادات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے اس نظام کو شدید کمزور کر دیا ہے
فرانس میں تعلیم کے شعبے کی خراب ہوتی صورتحال اور تعلیمی اداروں کے لیے ناکافی سرکاری فنڈز کے خلاف طلبہ کے احتجاج کو اس وسیع تر بحران کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے اس صورتحال نے یہ سوال دوبارہ اٹھایا ہے کہ جب حکومتیں عوامی سہولتیں فراہم کرنے سے پیچھے ہٹنے لگیں تو عام شہریوں کے حقوق اور مستقبل کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا
فلاحی ریاست کا قیام محض حکمرانوں کی خوش دلی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے مزدور تحریکوں، عوامی جدوجہد اور سوشلسٹ نظریات کا بھی اہم کردار تھا دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں حکومتوں نے عوامی فلاح کے پروگراموں کو وسعت دی، ترقی پسند ٹیکسوں کے ذریعے دولت کی تقسیم بہتر بنانے کی کوشش کی اور مزدوروں کے حقوق کو تحفظ فراہم کیا اس نظام کے تحت بے روزگار افراد کے لیے مالی امداد اور عام شہریوں کے لیے تعلیم و صحت کی سہولتیں اہم حکومتی ذمہ داریاں سمجھی جاتی تھیں
تاہم، 1970 کی دہائی کے آخری برسوں میں آزاد منڈی اور نجی سرمایہ کاری کو زیادہ اہمیت دینے والی معاشی پالیسیوں نے زور پکڑنا شروع کیا بعد ازاں سوویت یونین کے خاتمے اور سرد جنگ کے اختتام کے بعد مغربی ملکوں میں سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں موجود سیاسی اور نظریاتی دباؤ بھی کم ہو گیا اس کے نتیجے میں حکومتوں کی جانب سے عوامی خدمات پر اخراجات محدود کرنے اور نجی شعبے کے کردار میں اضافہ کرنے کا رجحان مضبوط ہوا
اس تبدیلی کے اثرات صحت، تعلیم اور دیگر عوامی سہولتوں پر پڑے حقیقی آمدنی میں سست روی، دولت کی بڑھتی ہوئی غیر مساوی تقسیم اور زندگی کے معیار میں کمی نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ایسے حالات میں بعض دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے عوامی بے چینی کو اپنے حق میں استعمال کیا، جبکہ کئی روایتی سوشلسٹ اور سماجی جمہوری جماعتوں پر بھی الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مزدوروں اور کم آمدنی والے طبقوں کے مفادات کی نمائندگی کم کر دی ہے
فلاحی ریاست کے مستقبل کا تعلق عالمی معیشت اور طاقت کے توازن سے بھی ہے جنگ کے بعد برطانیہ، فرانس اور مغربی جرمنی کی تعمیر نو میں امریکی امداد نے اہم کردار ادا کیا تھا لیکن اب امریکہ کی جانب سے یورپ اور ترقی پذیر ملکوں کے لیے مالی معاونت میں کمی کے رجحان نے ان ملکوں کے لیے معاشی دباؤ بڑھا دیا ہے اس سے یہ بحث بھی سامنے آئی ہے کہ کیا پرانے فلاحی نظام کو اسی شکل میں دوبارہ قائم کرنا ممکن ہے
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں کے لیے یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہے یہاں فلاحی ریاست کا ایسا جامع نظام کبھی پوری طرح قائم نہیں ہو سکا جس میں ہر شہری کو معیاری تعلیم، صحت اور معاشی تحفظ کی ضمانت حاصل ہو 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں زمینوں کی اصلاحات اور صنعتوں کو قومی تحویل میں لینے جیسے اقدامات کیے گئے، لیکن ریاستی اداروں اور معیشت کا ڈھانچہ بنیادی طور پر عوامی فلاح کے تقاضوں کے مطابق تبدیل نہ ہو سکا
آج بھی پاکستان میں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم اور علاج کے اخراجات عام خاندانوں کے لیے بڑے مسائل ہیں کمزور سماجی تحفظ کے باعث بیماری، ملازمت ختم ہونے یا کسی معاشی بحران کی صورت میں خاندانوں کو اپنی محدود بچتیں خرچ کرنا پڑ سکتی ہیں ایسے حالات میں سرکاری سہولتوں کو بہتر بنانا اور کم آمدنی والے طبقوں کے لیے مؤثر تحفظ فراہم کرنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے
اس بحث کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ عوامی فلاح کے لیے صرف حکومتی اعلانات کافی نہیں ہوتے اس کے لیے مضبوط عوامی اداروں، منصفانہ ٹیکس نظام، تعلیم و صحت پر مناسب اخراجات اور منظم شہری جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے فلاحی ریاست کا بحران اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اگر معاشی ترقی کے فوائد عام لوگوں تک نہ پہنچیں تو دولت میں اضافے کے باوجود معاشرے میں عدم اطمینان اور محرومی بڑھ سکتی ہے





