کیا امریکہ اب بھی سوشلزم سے خوف زدہ ہے؟ نوجوانوں میں بڑھتی مقبولیت نے ری پبلکنز کی انتخابی حکمت عملی کو چیلنج کر دیا
واشنگٹن: امریکہ میں سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری سیاسی مہم کے باوجود نوجوان ووٹرز اور آزاد خیال امریکیوں میں سوشلزم کے لیے بڑھتی ہوئی قبولیت نے ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک نیا انتخابی چیلنج کھڑا کر دیا ہے،صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی جماعت 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ نظریات کا حامی قرار دے کر ووٹرز کو متحرک کرنا چاہتے ہیں، لیکن مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات، صحت کی سہولتوں کی قیمتوں اور دولت کی غیر مساوی تقسیم نے اس حکمت عملی کی تاثیر پر سوالات اٹھا دیے ہیں،وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، بعض ایسے امیدوار بھی سخت انتخابی مقابلوں میں کامیابی کی کوشش کر رہے ہیں جن کے ماضی میں سوشلسٹ تنظیموں سے روابط رہے ہیں یا جو حکومت کے معاشی کردار میں اضافے کے حامی ہیں
مشی گن کے 36 سالہ ڈیموکریٹک امیدوار ول لارنس اس تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہیں،وہ ماضی میں ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ سے وابستہ رہے اور زمین و دولت کی ازسرنو تقسیم، پولیس کے خاتمے اور فوسل فیول کمپنیوں کو لازمی طور پر قومی ملکیت میں لینے جیسے نظریات کی حمایت کر چکے ہیں،ری پبلکنز ان کے خلاف اشتہارات میں انہیں امریکی طرز زندگی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں، لیکن لارنس نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخابات میں دو نسبتاً معتدل امیدواروں کو شکست دی اور اب ری پبلکن رکن کانگریس ٹام بیریٹ کے مقابلے میں ایک سخت انتخابی معرکے کا سامنا کر رہے ہیں
لارنس کی مہم میں ماضی کے نظریاتی مؤقف کے بجائے عوامی اخراجات، آمدنی میں بڑھتے فرق، ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور ایران کے ساتھ جنگ جیسے موضوعات کو نمایاں کیا جا رہا ہے،ان کا کہنا ہے کہ امریکی سیاست میں تقسیم کا بنیادی سوال صرف بائیں اور دائیں بازو کا نہیں بلکہ امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا بھی ہے،لارنس نے اس موسم گرما میں ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ کی رکنیت ختم کر دی اور پولیس کے لیے فنڈنگ ختم کرنے سمیت اپنے بعض سابقہ مؤقف سے فاصلہ اختیار کیا ہے
امریکہ میں سوشلزم کے بارے میں بدلتی رائے کو ستمبر میں جاری گیلپ سروے بھی ظاہر کرتا ہے۔ سروے کے مطابق 43 فیصد امریکیوں نے سوشلزم کے بارے میں مثبت رائے دی، جو گیلپ کی ریکارڈ کردہ بلند ترین شرح ہے،آزاد ووٹروں میں یہ شرح 45 فیصد رہی، جبکہ 18 سے 34 سال کی عمر کے افراد میں 57 فیصد نے سوشلزم اور 43 فیصد نے سرمایہ داری کے حق میں رائے دی۔ تاہم سوشلزم کے لیے مثبت رائے رکھنے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ یہ تمام افراد نجی ملکیت یا آزاد منڈی کے خاتمے کے حامی ہیں
ری پبلکنز کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ وہ طویل عرصے سے ڈیموکریٹک رہنماؤں کو سوشلسٹ قرار دیتے آئے ہیں،سابق صدر براک اوباما اور سابق اسپیکر نینسی پیلوسی جیسے مرکزی دھارے کے ڈیموکریٹس کو بھی ماضی میں اس اصطلاح کے ذریعے نشانہ بنایا گیا،بعض ری پبلکن انتخابی حکمت کاروں کا خیال ہے کہ اس لفظ کے مسلسل استعمال سے اس کی سیاسی تاثیر کم ہوئی ہے اور اب ووٹر ہر ایسے الزام کو سنجیدگی سے نہیں لیتے
اس کے باوجود ٹرمپ اور ان کے حامی سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف مہم کو وسط مدتی انتخابات کا اہم موضوع بنانا چاہتے ہیں،ٹرمپ نے ستمبر میں ری پبلکنز کے کنونشن کے دوران ڈیموکریٹس کو کمیونزم سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ جیت گئے تو امریکہ کمیونسٹ ملک بن جائے گا،ان کا مقصد انتخابات کو بڑھتی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جنگ کے بجائے ڈیموکریٹس کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات پر ریفرنڈم بنانا ہے
تاہم ری پبلکن پارٹی کے اندر بھی یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ صرف نظریاتی نعرے عوام کی معاشی مشکلات کا جواب نہیں دے سکتے،نائب صدر جے ڈی وینس نے خبردار کیا ہے کہ اگر ری پبلکنز سوشلزم کے بارے میں نوجوانوں کی بڑھتی ہمدردی کو سمجھنے میں ناکام رہے تو اس کا الزام صرف نوجوانوں پر نہیں ڈالا جا سکتا،ان کے مطابق آزاد منڈی کی حمایت کرنے والوں کو لوگوں کی زندگی بہتر بنا کر سوشلزم کے لیے بڑھتی کشش کا جواب دینا ہوگا
اس بحث میں ایک بنیادی فرق بھی اہم ہے،ادویات کی قیمتوں پر حد مقرر کرنا، کرایوں میں اضافے کو محدود کرنا یا دولت مند افراد پر زیادہ ٹیکس لگانا بذات خود مکمل سوشلسٹ نظام قائم کرنے کے مترادف نہیں،ایسی پالیسیاں نجی کاروبار اور مارکیٹ پر مبنی معیشت کے ساتھ بھی نافذ ہو سکتی ہیں،دوسری جانب بہت سے امریکی سوشلزم کو حکومتی اختیار میں اضافے، نجی ملکیت پر پابندیوں اور معاشی آزادی میں کمی کے خدشات سے جوڑتے ہیں
امریکی سیاست میں اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ ملک نے سرمایہ داری کو مسترد کر دیا ہے یا سوشلزم کے خلاف تاریخی خوف ختم ہو چکا ہے،اصل سوال یہ ہے کہ آیا سوشلزم کا نام لے کر سیاسی مخالفین پر حملہ کرنا اب بھی اتنا مؤثر ہے کہ ووٹر اپنی معاشی مشکلات کو نظرانداز کر دیں،3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات اس بات کا اہم امتحان ہوں گے کہ امریکی ووٹر نظریاتی نعروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں یا رہائش، صحت، روزگار اور روزمرہ اخراجات میں حقیقی بہتری کو





