وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن شکست کے خدشات، ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی جنگ شدت اختیار کرگئی
واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز اہلکاروں کے درمیان اثر و رسوخ اور اقتدار کے لیے رسہ کشی تیز ہوگئی ہے،نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن جماعت کو ممکنہ شکست کے خدشات نے وائٹ ہاؤس کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کردیا ہے، جبکہ صدر کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے عہدہ چھوڑنے کے ممکنہ امکان نے ان کی جگہ لینے کے خواہش مند اہلکاروں کو متحرک کردیا ہے
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی 16 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صدر کے قریبی حلقوں میں جاری اختلافات اب زیادہ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں،اخبار نے وائٹ ہاؤس کے عملے، مشیروں اور صدر کے قریبی افراد سمیت 20 لوگوں سے گفتگو کی بنیاد پر بتایا ہے کہ انتظامیہ کے اندر طاقت کے مراکز مضبوط کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور صورت حال ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران ہونے والی اندرونی کشمکش سے مشابہ ہوتی جارہی ہے
رپورٹ کے مطابق چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کی ممکنہ رخصتی کے بعد ان کی جگہ لینے کے لیے نائب چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر، محکمہ ہاؤسنگ کے اعلیٰ عہدیدار بل پلٹے اور ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے سربراہ لی زیلڈن کے نام زیر بحث ہیں،تاہم وائلز نے اپنے ساتھیوں یا قریبی حلقوں کو ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ وہ عہدہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں،ان کی ممکنہ رخصتی کے بارے میں قیاس آرائیوں نے انتظامیہ میں مستقبل کے عہدوں کے لیے مقابلہ تیز کردیا ہے
اختلافات میں اہم موڑ اس وقت آیا جب ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکریٹری کے طور پر کیٹی زکریا سے رابطہ کیا، مگر اس فیصلے سے پہلے سوزی وائلز سے مشورہ نہیں کیا،اخبار کے مطابق اس اقدام کو وائٹ ہاؤس کے اندر وائلز کے اختیار کو کمزور کرنے کے طور پر دیکھا گیا،اس واقعے نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ انتظامیہ کے اندر فیصلہ سازی کا مرکز غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے
ٹرمپ کے لیے انتخابی مشکلات بھی اندرونی کشمکش میں اضافہ کررہی ہیں،اخبار کے مطابق صدر اپنے قریبی لوگوں سے اس بات پر ناراضگی ظاہر کرچکے ہیں کہ انتخابات سے صرف 18 دن پہلے ان کے خیال میں کوئی بھی ان کا عوامی سطح پر اتنے زور سے دفاع نہیں کررہا جتنا وہ چاہتے ہیں،مہنگائی اور بلند قیمتوں سے پریشان ووٹرز کی بے چینی نے ری پبلکن جماعت کے لیے سیاسی مشکلات بڑھا دی ہیں
ٹرمپ اپنے دوستوں، وائٹ ہاؤس کے اہلکاروں اور بیرونی مشیروں سے مسلسل رابطے کررہے ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اہم معلومات ان تک نہیں پہنچ رہیں،ان گفتگوؤں میں انہوں نے وسط مدتی انتخابات اور اپنی انتخابی حکمت عملی چلانے والے دو مشیروں جیمز بلیئر اور کرس لاویٹا کے بارے میں بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے،دونوں سوزی وائلز کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں
سابق مشیر کوری لیونڈوسکی بھی اس صورت حال میں اہم کردار کے طور پر سامنے آئے ہیں،وہ سوزی وائلز کے پرانے حریف ہیں اور بعض ذرائع کے مطابق بل پلٹے کی حمایت کرتے ہیں،تاہم لیونڈوسکی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہوں نے ٹرمپ سے پلٹے کو چیف آف اسٹاف بنانے کے بارے میں بات کی ہے
وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈینیئل الواریز نے اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ گمنام ذرائع کی باتوں کی کوئی بنیاد نہیں اور بعض لوگ صدر کی کامیابی کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں،ان کے مطابق ٹرمپ کی ٹیم مضبوط، باصلاحیت اور متحد ہے اور اس کی توجہ صدر کے ایجنڈے اور وسط مدتی انتخابات جیتنے پر مرکوز ہے
دوسری جانب ری پبلکن جماعت کے اندرونی انتخابی جائزوں کے مطابق ڈیلس میں پارٹی کے وسط مدتی انتخابی کنونشن کے بعد اس کے امیدواروں کی حمایت میں نمایاں کمی آئی،ایک ری پبلکن انتخابی حکمت عملی ساز کے مطابق ووٹرز کا خیال تھا کہ پارٹی ان کے معاشی مسائل اور روزمرہ اخراجات کے بارے میں سنجیدہ نہیں،رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ستمبر میں انتخابی مہم پر بھرپور توجہ دینے کے بجائے ٹرمپ نے مہینے کا بڑا حصہ چینی صدر شی جن پنگ کی میزبانی اور وائٹ ہاؤس کی تعمیراتی سرگرمیوں، بشمول نئے ہیلی پیڈ اور مجوزہ بال روم، میں گزارا
وائٹ ہاؤس عوامی سطح پر اعتماد کا اظہار کررہا ہے، لیکن صدر کے متعدد معاونین اور اتحادیوں کا خیال ہے کہ ری پبلکن نومبر میں ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھو سکتے ہیں،سینیٹ میں اکثریت کا معاملہ بھی غیر یقینی ہے،ٹرمپ کے حامی سیاسی گروپوں کی جانب سے بھاری اخراجات کے باوجود کنساس اور ٹیکساس جیسی روایتی ری پبلکن ریاستوں میں بھی مقابلہ سخت ہونے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں
سوزی وائلز کے قریبی حلقوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر ری پبلکن جماعت کو بڑی انتخابی شکست ہوئی تو پارٹی کے اندر اقتدار کے خواہش مند افراد اس صورت حال کو وائلز کی جگہ لینے کے لیے استعمال کریں گے،ایک قریبی ساتھی کے مطابق اگلے ماہ ممکنہ بھاری شکست چیف آف اسٹاف کے عہدے کے لیے مقابلے کو مزید تیز کرسکتی ہے
بل پلٹے کی جانب سے ٹرمپ کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی رپورٹ میں نمایاں ہیں،وہ اکثر اپنے منصوبوں پر مشتمل بڑے پوسٹر بورڈز گولف کورس، صدارتی ہیلی کاپٹر میرین ون یا ایئر فورس ون پر لے جاتے ہیں تاکہ صدر کو اپنی تجاویز کی حمایت پر آمادہ کرسکیں،ان تجاویز میں کینیڈی سینٹر کی تزئین و آرائش اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود کم نہ کرنے جیسے معاملات شامل ہوتے ہیں،تاہم رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے شکایت بھی کی کہ پلٹے کے لائے ہوئے پوسٹر بورڈز کی کثرت وائٹ ہاؤس کی رہائشی جگہ میں بے ترتیبی پیدا کررہی ہے
وائلز نے ٹرمپ کی 2024 کی صدارتی انتخابی مہم کو منظم انداز میں چلانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا اور ان کی دوسری مدت کے ابتدائی 100 دنوں میں 100 سے زیادہ صدارتی احکامات جاری کرنے کی حکمت عملی میں بھی اہم کردار ادا کیا،لیکن ان کے قریبی ساتھی جیمز بلیئر اور کرس لاویٹا کے بوسنیا کے سربیائی اکثریتی علاقے ریپبلیکا سرپسکا میں روس نواز حکومت کے لیے سیاسی مشاورت کرنے کے معاملے نے ان کے حلقے کو دفاعی پوزیشن میں ڈال دیا
ٹرمپ نے اس معاملے پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دونوں مشیروں سے فاصلہ ظاہر کیا اور کہا کہ
اگر ان کی مشاورتی سرگرمیوں میں مفادات کا ٹکراؤ پایا گیا تو انہیں برطرف کیا جاسکتا ہے،اس کے بعد سوزی وائلز کی بیٹی کیٹی وائلز کی اسی علاقے کے دورے کی تصویر سامنے آئی،وہ ایک لابنگ کمپنی میں شراکت دار ہیں جو ریپبلیکا سرپسکا کی حکومت کی نمائندگی کرتی ہے، اگرچہ سرکاری لابنگ ریکارڈ میں ان کا نام انفرادی طور پر درج نہیں ہے
رپورٹ کے مطابق سوزی وائلز کے مخالفین نے ان غیر ملکی مشاورتی سرگرمیوں سے متعلق تنقیدی مضامین ٹرمپ تک پہنچا کر ان کے شکوک میں اضافہ کیا،جیمز بلیئر اور کرس لاویٹا اب بھی ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی چلا رہے ہیں اور صدر بلیئر سے مسلسل رابطے میں ہیں، تاہم اس تنازع نے انتخابی مہم میں ان دونوں کے اثر و رسوخ کو کمزور کیا ہوسکتا ہے
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جاری اقتدار کی کشمکش محض اہم عہدوں کے لیے مقابلہ نہیں، بلکہ اس وقت صدر کے گرد فیصلہ سازی، انتخابی حکمت عملی اور سیاسی ذمہ داری کے تعین کی جنگ بھی بن چکی ہے،اگر ری پبلکن جماعت نومبر میں کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے بلکہ ان کی انتظامیہ کے اندر طاقت کے توازن پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں





