سکھوں کی عبادت گاہ سے دہلی کی ہنگامہ خیز سڑکوں تک، مظاہرین پولیس کی رکاوٹوں کے سامنے ڈٹ گئے
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے نوجوانوں نے پولیس کی سخت پابندیوں کے باوجود مظاہرے کی کوشش جاری رکھی،نیویارک ٹائمز کی 10 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق، متعدد مظاہرین نے پولیس کی کارروائی سے بچنے کے لیے سکھوں کی مقدس عبادت گاہ گردوارہ بنگلہ صاحب میں پناہ لی، اس کے بعد وہ شہر کی سڑکوں پر احتجاجی مقام تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے
دہلی میں پولیس نے جنتر منتر کے اطراف سخت حفاظتی انتظامات کیے اور احتجاجی مقام تک رسائی روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دیں،مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے متنازع عمل کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے
رائٹرز کے مطابق، 10 اکتوبر کو دہلی میں 2,000 سے زیادہ مظاہرین کو حراست میں لیا گیا،پولیس کارروائی کے دوران بعض مقامات پر نقل و حرکت اور انٹرنیٹ خدمات بھی متاثر ہوئیں
گردوارے میں پولیس اہلکاروں کی موجودگی اور بعض اہلکاروں کے جوتے پہنے ہونے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تنازعہ پیدا ہو گیا،حزب اختلاف کے رہنماؤں نے مذہبی مقام کے احترام پر سوال اٹھائے، جبکہ دہلی پولیس نے وضاحت کی کہ اہلکار ایک ایسے مشترکہ راستے سے گزر رہے تھے جہاں سے عقیدت مند جوتے اتارنے کی جگہ تک پہنچتے ہیں،گردوارہ انتظامیہ کے بعض عہدیداروں نے بھی اعتراض کیا کہ عبادت گاہ کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے
یہ احتجاج نوجوانوں کی تحریک ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ نے منظم کیا تھا،تحریک کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں پر خصوصی نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ نام خارج کیے جانے سے اہل ووٹروں کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے،بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے کسی سیاسی بدعنوانی یا جانبداری کے الزام کو مسترد کیا ہے





