Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اہم خبریں

نوبیل امن انعام کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی عالمی فوجداری عدالت پر نئی پابندیاں

نوبیل امن انعام کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی عالمی فوجداری عدالت پر نئی پابندیاں

واشنگٹن:صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 9 اکتوبر کو عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف مزید مالی پابندیاں عائد کر دیں،یہ اقدام عدالت کے ساتھ واشنگٹن کی طویل کشیدگی میں مزید اضافے کی علامت ہے۔ پابندیوں کا اعلان ایسے وقت کیا گیا جب چند گھنٹے قبل عدالت کی سابق جج اور معروف بین الاقوامی قانون دان ناوی پلے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلان ہوا تھا
ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ناوی پلے کو امن انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے نظام پر حملوں کی مذمت کی،پلے بین الاقوامی قانون کے شعبے میں طویل تجربہ رکھتی ہیں اور عالمی فوجداری عدالت سمیت بین الاقوامی عدالتی اداروں سے وابستہ رہی ہیں
ٹرمپ انتظامیہ اور عالمی فوجداری عدالت کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کا اجرا ہے،یہ وارنٹ غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کے تناظر میں جاری کیا گیا تھا،عدالت افغانستان میں امریکی فوجیوں کے اقدامات کی تحقیقات بھی کر چکی ہے، جس پر واشنگٹن نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں
2002 میں قائم ہونے والی عالمی فوجداری عدالت کا صدر دفتر نیدرلینڈز کے شہر دی ہیگ میں ہے،اس کا بنیادی مقصد جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف دیگر سنگین جرائم کے ذمہ دار افراد کی تحقیقات اور قانونی کارروائی ہے
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ عالمی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں کے خلاف مقدمات چلانے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے،روبیو کے مطابق امریکہ اس عدالت کے ساتھ مالی لین دین پر پابندی لگائے گا تاکہ اس کے وسائل محدود کیے جا سکیں اور اس کی کارروائیاں متاثر ہوں
یہ تازہ اقدام عالمی فوجداری عدالت اور امریکی حکومت کے درمیان اس بنیادی تنازعہ کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ بین الاقوامی عدالتوں کو جنگی جرائم کے الزامات پر کارروائی کرنے کا اختیار کس حد تک حاصل ہونا چاہیے، خصوصاً جب معاملہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں سے متعلق ہو

قومی خبریں سے مزید