سارہ شریف کے قتل کے 3 سال بعد اہم عدالتی فیصلہ، پاکستان میں مقیم 4 بہن بھائیوں سمیت 5 بچوں کی سرپرستی دادا کے سپرد
پاکستان میں ایک عدالت نے برطانیہ میں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کے بہن بھائیوں کی سرپرستی ان کے دادا محمد شریف کے حوالے کردی ہے،یہ فیصلہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں تقریباً 3 سال سے جاری قانونی کشمکش کے بعد سامنے آیا ہے،سارہ کے والد اور سوتیلی والدہ کو 2023 میں اس کے قتل کے معاملے میں سزا سنائی گئی تھی
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق، سارہ کے قتل کے بعد اس کے 5 بہن بھائی اگست 2023 سے پاکستان میں مقیم ہیں،ان بچوں کی عمریں اب 4 سے 16 سال کے درمیان ہیں،انہیں سارہ کے والد، سوتیلی والدہ اور چچا قتل کے واقعے کے بعد برطانیہ سے پاکستان لے آئے تھے
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان پہنچنے کے بعد یہ خاندان کئی ہفتوں تک روپوش رہا،بعد ازاں پولیس نے بچوں کا سراغ لگایا،اس کے بعد سے ان کی رہائش، نگہداشت اور قانونی سرپرستی کا معاملہ زیرِ غور تھا
سرپرستی کے مقدمے کی سماعت کے دوران پانچوں بچوں کو جج کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں ان سے ان کی موجودہ صورت حال اور رہائش کے بارے میں بات کی گئی،سب سے بڑے بچے نے عدالت کو بتایا کہ وہ موجودہ حالات میں مطمئن ہیں اور تمام بہن بھائی یہاں اپنی زندگی میں بس چکے ہیں
جب جج نے انہیں بتایا کہ ان کے دادا محمد شریف کو قانونی سرپرست مقرر کیا جارہا ہے تو سب سے بڑے بچے نے جواب دیا کہ یہ ٹھیک ہے
عدالت کے اس فیصلے کے بعد محمد شریف کو بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے
دادا کا ردعمل: بچوں کی تعلیم اور بہتر مستقبل میری ذمہ داری ہے
محمد شریف نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ 3 سال کی قانونی جدوجہد کے بعد سرپرستی ملنے پر مطمئن اور پُرسکون ہیں،ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ بچے صحت مند رہیں اور انہیں اچھی تعلیم حاصل ہو
انہوں نے کہا کہ بچوں کو بہترین ممکنہ تعلیم اور نگہداشت فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے
محمد شریف کے مطابق، وہ چاہتے ہیں کہ بچے ایک محفوظ ماحول میں زندگی گزاریں اور ان کی تعلیم و تربیت متاثر نہ ہو
سارہ شریف 10 سال کی تھی جب 2023 میں برطانیہ میں اسے قتل کردیا گیا،اس کے والد اور سوتیلی والدہ اس قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ ہیں،واقعے کے بعد سارہ کے بہن بھائیوں کو پاکستان منتقل کردیا گیا، جہاں ان کی رہائش اور مستقبل کے حوالے سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں
تازہ عدالتی فیصلے سے بچوں کی قانونی سرپرستی کے بارے میں جاری غیر یقینی صورت حال ختم کرنے کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے،اب ان کے دادا ان کی نگہداشت، تعلیم اور روزمرہ زندگی سے متعلق ذمہ داریاں ادا کریں گے
تاہم، یہ فیصلہ سارہ کے بہن بھائیوں کے لیے ایک ایسے المناک خاندانی پس منظر میں سامنے آیا ہے جس نے ان کی زندگیوں کو کئی برس سے متاثر کر رکھا ہے،عدالت میں بچوں کی جانب سے موجودہ حالات میں اطمینان کا اظہار اور دادا کی سرپرستی قبول کرنا اس مقدمے کا اہم پہلو ہے
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، سرپرستی کے فیصلے کے بعد محمد شریف نے بچوں کی صحت، تعلیم اور بہتر مستقبل کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے





